حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلاهما ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .

حمران رحمہ اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس یقین پر مرا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا حق دار نہیں ہے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً .

حضرت حمران رحمہ اللہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ دونوں میں یکسانیت ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 26
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (9798) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 37

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حمرانؒ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اس یقین پر مرا کہ اللہ تعالیٰ کے سِوا کوئی عبادت کا حق دار نہیں ہے، وہ جنّت میں داخل ہو گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:136]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
اہل سنت اور اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ توحید پر مرنے والا جنتی ہے اگر وہ گناہوں سے بچا ہو۔
صحیح تو یہ ہے کہ وہ سیدھا جنت میں داخل ہوگا، اگر اس نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا اور توبہ کی توفیق نہ ملی، تو پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی، اس کے گناہ معاف کر دے اور جنت میں داخل کرے، یا اس کے گناہوں کے مطابق دوزخ میں داخل کر کے گناہوں سے پاک صاف کر کے جنت میں لے جائے۔
بہر حال وہ انجام کے اعتبار سےجنتی ہے۔
تو حید کے اقرار وشہادت کے لیے رسالت وآخرت پر یقین وایمان لازم ہے، ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 26 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 37 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´نجات صرف اللہ و رسول پر ایمان لانے اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے پر ہی موقوف ہے`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . . .»
. . . سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا اس حال میں کہ وہ اس بات کو یقینی طور پر جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 37]
تخریج:
[صحيح مسلم 136]
فقہ الحدیث:
➊ نجات صرف اللہ و رسول پر ایمان لانے اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے پر ہی موقوف ہے۔ توحید و سنت کے بغیر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ توحید کو ماننے والا ہی جنتی ہے۔
➋ توحید سے پہلے اس کا علم ہونا اور پھر دل، زبان اور جسم سے اس کی تصدیق کرنا ہی ایمان ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 37 سے ماخوذ ہے۔