حدیث نمبر: 2599
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: اللہ کے رسول! مشرکین کے خلاف دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2599
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مشرکوں کے خلاف بددعا فرمائیں،آپ نے فرمایا:"مجھے لعنت کرنے والا بنا کرنہیں بھیجا گیا، مجھے تو بس رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6613]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مشرکوں پر بلاسبب اور بلاوجہ لعنت بھیجنا درست نہیں ہے، ہاں اگر وہ مسلمانوں سے جنگ کریں، انہیں تنگ کریں اور ان کے خلاف سازشیں کریں تو پھر مخصوص حالات میں ان پر لعنت بھیجنا درست ہے، جیسا کہ قنوت نازلہ میں ان کے خلاف دعا کی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2599 سے ماخوذ ہے۔