صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا: باب: جانوروں اور ان کے علاوہ کو لعنت نہ کرنے کابیان۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَدَعَا خَادِمَهُ فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے اُم لدرداء رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی طرف سے کچھ گھر کی آرائش کا سامان بھیجا (وہ اس کے ہاں مہمان تھیں) پھر کسی رات کو عبدالملک رات کے وقت اٹھا اور اپنے خادم کو آواز دی تو گویا اس نے آنے میں تاخیر کی چنانچہ اس نے اس پر لعنت بھیجی تو جب صبح ہوئی حضرت ام الدرداء رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کہا میں نے رات تجھے سنا تو نے جب اپنے خادم کو بلایا اس پر لعنت بھیجی میں نے ابو الدراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، انھوں نے بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لعنت بھیجنا جن کی عادت ہے وہ قیامت کے دن سفارشی اور گواہ نہیں بن سکیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ .معمر نے زید بن اسلم سے اسی سند سے حفص بن میسرہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .ہشام بن سعد نے زید بن اسلم اور ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے ام درداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے روز نہ شہادت دینے والے ہوں گے اور نہ شفاعت کرنے والے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
انجاد: نجد کی جمع ہے، گھر کی آرائش و زیبائش کا سامان۔
فوائد ومسائل: قیامت کے دن، مومن اپنے مومن بھائیوں کے بارے میں سفارش کریں گے، لیکن لعنت بھیجنا جن کا وطیرہ ہے وہ سفارش کرنے سے محروم ہو جائیں گے، اسی طرح وہ قیامت کے دن دوسری امتوں کے سامنے ان کے رسولوں کی پیغام رسانی کی شہادت نہیں دیں گے، یا اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی نعمت سے محروم رہیں گے، لیکن جن لوگوں پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے، ان پر لعنت بھیجنا، اس میں داخل نہیں ہے۔