صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا: باب: جانوروں اور ان کے علاوہ کو لعنت نہ کرنے کابیان۔
حدیث نمبر: 2597
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " .سلیمان بن بلال نے مجھے خبر دی، کہا: علاء بن عبدالرحمان سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک صدیق کے شایان شان نہیں کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔“
حَدَّثَنِيهِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .محمد بن جعفر نے علاء بن عبدالرحمان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"صدیق کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ لعنت بھیجنے والا ہو۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6608]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: صدیق، یعنی مومن کے لیے دوسروں پر لعنت بھیجا اور ان کو اللہ کی رحمت سے دور ہونے کی بددعا دینا مناسب نہیں ہے، کیونکہ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں اور دوسرے بھائی کے لیے وہ چیز پسند کرتے ہیں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہمدرد اور غم خوار ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2597 سے ماخوذ ہے۔