صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب فَضْلِ الرِّفْقِ: باب: نرمی کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ " .منصور نے تمیم بن سلمہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ہلال سے، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس شخص کو نرم خوئی سے محروم کر دیا جائے، وہ بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْر ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ " .امام صاحب اپنے بہت سے اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں،حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"جو نرمی سے محروم رکھا جاتا ہے، وہ ہر خیر محروم رکھا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حُرِمَ الرِّفْقَ حُرِمَ الْخَيْرَ ، أَوْ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ " .محمد بن اسماعیل نے عبدالرحمان بن ہلال سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نرم مزاجی سے محروم ہوا وہ بھلائی سے محروم ہوا، یا جو شخص نرم مزاجی سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اور جڑ بنیاد اس کی نرم مزاجی ہے، اس لیے جو شخص اس سے محروم رہا، وہ ہر قسم کے خیر اور ہر اچھائی اور بھلائی سے محروم اور خالی ہاتھ رہا۔