حدیث نمبر: 2584
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ، وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَنَادَى الْمُهَاجِرُ أَوْ الْمُهَاجِرُونَ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، وَنَادَى الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا فَكَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، قَالَ : " فَلَا بَأْسَ وَلْيَنْصُرِ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے، ایک غلام مہاجروں اور دوسرا انصار کا مہاجر غلام یا مہاجروں نے آواز بلند کی، اے مہاجرو!مدد کرو اور انصاری نے پکارا، اے انصار یو!مدد کرو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خیمہ سے)نکلے اور فرمایا:"یہ جاہلانہ پکارکیسی ہے؟صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا:کچھ نہیں۔اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!صرف اتنی بات ہے دو غلام لڑ پڑے(کیونکہ) ایک نے دوسرے کی سرین پر لات ماری آپ نے فرمایا:" کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے، انسان کو اپنے بھائی کی مدد کرنا چاہیے،ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظلم کر رہا ہے تو اسے روکے، کیونکہ یہی اس کی نصرت ہے اور اگر مظلوم ہے تو اس کی مدد کرے۔"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ، فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، قَالَ عُمَرُ : دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " .

سفیان بن عیینہ نے کہا: عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک غزوے (غزوہ مریسیع) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہاں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر ضرب لگائی، انصاری نے کہا: اے انصار! (آؤ، مدد کرو) اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! (آؤ، مدد کرو۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی چیخ و پکار ہے؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ہے، آپ نے فرمایا: ”(جب یہ اتنا چھوٹا سا معاملہ ہے تو جاہلی دور کی سی) اس (چیخ و پکار) کو چھوڑو۔ یہ ایک کریہہ اور بدبودار بات ہے۔“ عبداللہ بن ابی نے یہ بات سنی تو کہنے لگا: (اچھا!) انہوں نے (ایسا) کیا ہے، اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا اسے، جو ذلت والا ہے، وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے چھوڑئیے، میں اس منافق کی گردن اڑاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رہنے دو، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔“

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ : عَمْرٌو ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مہاجر نے ایک انصاری آدمی کی دبر پر ہاتھ مارااس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قصاص کا مطالبہ کیا۔ آپ نے فرمایا:"اس انداز کو چھوڑدو کیونکہ یہ بدبودار ہے۔"یعنی یہ پکار ناشائستہ اور قبیح حرکت ہے، ابن منصور کی روایت میں عمرو بن دینار کے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سننے کی صراحت کی ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2584
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے، ایک غلام مہاجروں اور دوسرا انصار کا مہاجر غلام یا مہاجروں نے آواز بلند کی، اے مہاجرو!مدد کرو اور انصاری نے پکارا، اے انصار یو!مدد کرو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خیمہ سے)نکلے اور فرمایا:"یہ جاہلانہ پکارکیسی ہے؟صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا:کچھ نہیں۔اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!صرف اتنی بات ہے دو غلام لڑ پڑے(کیونکہ) ایک نے دوسرے کی سرین پر لات ماری آپ نے فرمایا:" کوئی خطرہ کی بات... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6582]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
كسع: سرین پر لات مارنا یا چٹکی لینا۔
فوائد ومسائل: غزوہ مریسیع میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام جہجاہ بن قیس غفاری نے جن کی طبیعت میں خوش طبعی تھی، سنان بن وبرہ جہنی، جو انصار کے حلیف تھے، کی سرین پر ہنسی میں لات مار دی، اس نے اس کو بہت برا اور معیوب کہا اور مدد کے لیے انصار کو پکارا، جواب میں حضرت عمر کے غلام نے مہاجرین کو آواز دی تو اس طرح قبائل کی بنیاد پر آواز دینا جاہلیت کے دور کا طریقہ تھا، جس میں حق و صداقت کی بجائے، اپنے اپنے خاندان کے فرد کی حمایت کی جاتی تھی۔
اس لیے آپ نے فرمایا یہ جاہلیت کے دور کی پکار کیسی ہے؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا، اس پکار سے زیادہ لوگ متاثر نہیں ہوئے اور عصبیت کے جذبہ نے سر نہیں اٹھایا، اس لیے کچھ اثر نہیں ہوا تو آپ نے فرمایا تو چلو کوئی خطرہ اور خوف کی بات نہیں ہے، کیونکہ تم اس سے متاثر نہیں ہوئے، بھائی کی مدد ضرور کرو، لیکن ظالم بھائی کی مدد یہی ہے کہ اس کو شریعت کی مخالفت سے روکو، غلط کام سے باز رکھو تاکہ وہ اللہ کے مواخذہ سے بچ جائے، اسی طرح آپ نے جاہلیت کے اس مقولہ کو تو برقرار رکھا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم، لیکن اس کا مفہوم بدل دیا اور عصبیت کو ختم کر ڈالا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6582 سے ماخوذ ہے۔