صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب تَحْرِيمِ الظُّلْمِ: باب: ظلم کرنا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 2583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ ، فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ، ثُمَّ قَرَأَ ، وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ " .حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دے دیتا ہے اور جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر جانے نہیں دیتا۔“ پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: «وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ»۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4686 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4686. حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالٰی ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ لیتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "اور اسی طرح جب بھی آپ کا رب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے۔ بلاشبہ اس کی گرفت بہت تکلیف دہ اور سخت ہوتی ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:4686]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث اور مذکورہ آیت سے اللہ تعالیٰ کی سنت کا پتی چلتا ہے کہ وہ اہل ظلم کا ضرورمؤاخذہ کرتا ہے۔
اس سلسلے میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ہوتا۔
لہٰذا ظلم پیشہ لوگوں کو اپنے انجام سے ڈرتے رہنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ظلم پیشہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
"اور تم لوگ ان کی طرف مت جھکو جو ظلم کرنے والے ہیں ورنہ جہنم کی آگ تمھیں پکڑے گی۔
پھر اللہ کے علاوہ تمھارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا اور نہ تمھاری مدد کی جائے گی۔
" (ھود: 11۔
113)
2۔
یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر قسم کے ظالموں کو شامل ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا فاسق و فاجر، بہر حال ظلم کا انجام اچھا نہیں ہو تا۔
اس سے عقل مند انسان کو اجتناب کرنا چاہیے۔
1۔
اس حدیث اور مذکورہ آیت سے اللہ تعالیٰ کی سنت کا پتی چلتا ہے کہ وہ اہل ظلم کا ضرورمؤاخذہ کرتا ہے۔
اس سلسلے میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ہوتا۔
لہٰذا ظلم پیشہ لوگوں کو اپنے انجام سے ڈرتے رہنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ظلم پیشہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
"اور تم لوگ ان کی طرف مت جھکو جو ظلم کرنے والے ہیں ورنہ جہنم کی آگ تمھیں پکڑے گی۔
پھر اللہ کے علاوہ تمھارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا اور نہ تمھاری مدد کی جائے گی۔
" (ھود: 11۔
113)
2۔
یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر قسم کے ظالموں کو شامل ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا فاسق و فاجر، بہر حال ظلم کا انجام اچھا نہیں ہو تا۔
اس سے عقل مند انسان کو اجتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4686 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3110 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں “، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ” ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے “ (ہود: ۱۰۲)، تلاوت فرمائی۔ (راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3110]
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں “، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ” ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے “ (ہود: ۱۰۲)، تلاوت فرمائی۔ (راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3110]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، دردناک ہوتی ہے (ہود: 102)
وضاحت:
1؎:
ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، دردناک ہوتی ہے (ہود: 102)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3110 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4018 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سزاؤں کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ” تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے “ (سورة الهود: 102)، کی تلاوت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4018]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ” تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے “ (سورة الهود: 102)، کی تلاوت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4018]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مجرم کو اگر اللہ کی طرف سے فوری سزا نہ ملے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چھوٹ گیا ہے بلکہ اللہ تعالی ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے۔
پھر اچانک پکڑلیتا ہے۔
(2)
مجرموں کو مہلت دینے میں اللہ کی صفت رحمت کا اظہار ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر ہدایت قبول کرلیں اور اس طرح وہ عذاب سے بچ کر انعام کے مستحق بن جائیں۔
(3)
اللہ کے عذاب سے کوئی نبی اور ولی نہیں بچاسکتا۔
فوائد و مسائل:
(1)
مجرم کو اگر اللہ کی طرف سے فوری سزا نہ ملے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چھوٹ گیا ہے بلکہ اللہ تعالی ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے۔
پھر اچانک پکڑلیتا ہے۔
(2)
مجرموں کو مہلت دینے میں اللہ کی صفت رحمت کا اظہار ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر ہدایت قبول کرلیں اور اس طرح وہ عذاب سے بچ کر انعام کے مستحق بن جائیں۔
(3)
اللہ کے عذاب سے کوئی نبی اور ولی نہیں بچاسکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4018 سے ماخوذ ہے۔