صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب تَحْرِيمِ الظُّلْمِ: باب: ظلم کرنا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 2582
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تم سب حقداروں کے حقوق ان کو ادا کرو گے، حتیٰ کہ اس بکری کا بدلہ بھی جس کے سینگ توڑ دیے گئے ہوں گے، سینگوں والی بکری سے پورا پورا لیا جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے روز حق والوں کو ان کا حق دلوایا جائے گا حتیٰ کہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے اس کا بدلہ دلوایا جائے گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6580]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
جلحاء: بےسینگ۔
(2)
قرناء: سینگ والی۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حیوانات کو بھی اٹھایا جائے گا اور ان کو بھی ایک دوسرے سے بدلا دلوایا جائے گا، لیکن چونکہ وہ مکلف نہیں ہیں اس لیے ان کے لیے جنت یا دوزخ نہیں ہے۔
(1)
جلحاء: بےسینگ۔
(2)
قرناء: سینگ والی۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حیوانات کو بھی اٹھایا جائے گا اور ان کو بھی ایک دوسرے سے بدلا دلوایا جائے گا، لیکن چونکہ وہ مکلف نہیں ہیں اس لیے ان کے لیے جنت یا دوزخ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2582 سے ماخوذ ہے۔