صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حُزْنٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا: باب: مومن کو کوئی بیماری یا تکلیف پہنچے تو اس کا ثواب۔
حدیث نمبر: 2575
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ ، أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ ، فَقَالَ : مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ ؟ قَالَتْ : الْحُمَّى لَا بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا ، فَقَالَ : " لَا تَسُبِّي الْحُمَّى ، فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام السائب یا ام المسیب کے ہاں تشریف لے گئے اور پوچھا:"اے ام السائب! یا ام المسیب!تمھیں کیا ہوا ہے؟تم کانپ رہی ہو؟"اس نے جواب دیا:بخارہے،اللہ اس کو برکت نہ دے تو آپ نے فرمایا:"بخار کو برا نہ کہو،کیونکہ یہ انسان کے گناہ ختم کرتا ہے،جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کودور کرتی ہے۔"
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام السائب یا ام المسیب کے ہاں تشریف لے گئے اور پوچھا:"اے ام السائب! یا ام المسیب!تمھیں کیا ہوا ہے؟تم کانپ رہی ہو؟"اس نے جواب دیا:بخارہے،اللہ اس کو برکت نہ دے تو آپ نے فرمایا:"بخار کو برا نہ کہو،کیونکہ یہ انسان کے گناہ ختم کرتا ہے،جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کودور کرتی ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6570]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
لاتسبي: کسی کو برا بھلا، اس سے پریشان ہو کر یا اکتا کر، اس کی تحقیر کے لیے کہا جاتا ہے۔
تو اس نے بخار کو ناپسند کرتے ہوئے بددعا دی، اس لیے آپ نے اس کو سب (گالی)
سے تعبیر فرمایا۔
فوائد ومسائل: بھٹی اپنی حرارت اور گرمی سے لوہے کی میل کچیل اور زنگ کو ختم کر دیتی ہے، اسی طرح بخار اپنی حدت و شدت سے گناہ دور کر دیتا ہے۔
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے، مسلمان کے لیے ہر قسم کی پریشانی، دکھ، تکلیف، رنج و الم اور غم و فکر کا باعث بننے والی چیز گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔
اس کے درجات و مراتب بڑھتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور انبیاء اور ان سے قریب تر لوگ زیادہ دکھ درد میں مبتلا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے مراتب اور درجات زیادہ بلند ہیں اور ان کو اجروثواب زیادہ ملتا ہے۔
لاتسبي: کسی کو برا بھلا، اس سے پریشان ہو کر یا اکتا کر، اس کی تحقیر کے لیے کہا جاتا ہے۔
تو اس نے بخار کو ناپسند کرتے ہوئے بددعا دی، اس لیے آپ نے اس کو سب (گالی)
سے تعبیر فرمایا۔
فوائد ومسائل: بھٹی اپنی حرارت اور گرمی سے لوہے کی میل کچیل اور زنگ کو ختم کر دیتی ہے، اسی طرح بخار اپنی حدت و شدت سے گناہ دور کر دیتا ہے۔
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے، مسلمان کے لیے ہر قسم کی پریشانی، دکھ، تکلیف، رنج و الم اور غم و فکر کا باعث بننے والی چیز گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔
اس کے درجات و مراتب بڑھتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور انبیاء اور ان سے قریب تر لوگ زیادہ دکھ درد میں مبتلا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے مراتب اور درجات زیادہ بلند ہیں اور ان کو اجروثواب زیادہ ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2575 سے ماخوذ ہے۔