حدیث نمبر: 2574
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ ، شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، بَلَغَتْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا ، فَفِي كُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا ، أَوِ الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا " ، قَالَ مُسْلِم : هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ .

سفیان نے قریش کے ایک بزرگ ابن محیصن سے روایت کی، انہوں نے محمد بن قیس بن مخرمہ کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: جب (یہ آیت) نازل ہوئی: ”جو شخص کوئی برائی کرے گا، اس کے بدلے اسے سزا دی جائے گی۔“ یہ (بات) مسلمانوں کے لیے سخت خوف اور تشویش کا باعث بنی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مطلوبہ معیار کے) قریب تر پہنچو اور اچھی طرح سیکھے ہو جاؤ۔ ہر مصیبت میں، جو کسی مسلمان کو پہنچتی ہے، ایک کفارہ ہوتا ہے حتیٰ کہ ٹھوکر جو اسے لگ جاتی ہے یا کانٹا اسے چبھ جاتا ہے۔“ امام مسلم نے کہا: وہ (قریش کے شیخ ابن محیصن) اہل مکہ میں سے عمر بن عبدالرحمان بن محیصن ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2574
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3038 | مسند الحميدي: 1182

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جب یہ آیت مبارکہ اتری:"جو بھی برائی کا ارتکاب کرے گا،اس کو اس کی جزا ملے گی۔"(نساء:123) مسلمانوں کو اس سے انتہائی سخت تشویش لاحق ہوئی۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میانہ روی اختیار کرو اور راہ راست پرچلو،مسلمانوں کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ کفار بنتی ہے،حتیٰ کہ جوٹھوکر لگتی ہے یا کانٹا جو چبھ جاتا ہے۔"امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:عمر بن عبدالرحمان بن محیصن مکہ کا باشندہ ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6569]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
قاربوا: افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو۔
(2)
سددوا: سداد، درستگی اپناؤ۔
(3)
نكبة: مصیبت، زخم، ٹھوکر۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2574 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3038 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «من يعمل سوءا يجز به» جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا (النساء: ۱۲۳)، نازل ہوئی تو یہ بات مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، اس کی شکایت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو آپ نے فرمایا: حق کے قریب ہو جاؤ، اور سیدھے رہو، مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو کوئی کانٹا چبھ جائے یا اسے کوئی مصیبت پہنچ جائے (تو اس کے سبب سے بھی اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں)۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3038]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا‘‘ (النساء: 123)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3038 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1182 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1182- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ «مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» (4-النساء:123) جو شخص براعمل کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا۔ تو یہ بات مسلما نوں کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تم لوگ تفریق سے بچو اور ٹھیک رہو اور یہ خوشخبری حاصل کرو کہ بندہ مومن کو جو بھی پریشانی لاحق ہوتی ہے وہ اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہے یہاں تک کہ اسے جو کانٹا چبھتا ہے یا جو مشکل درپیش ہوتی ہے، تو (یہ بھی اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1182]
فائدہ:
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ جو کوئی گناہ کرتا ہے، اس کو اس کی سزا ضرور ملتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ ‎ [99-الزلزلة:8]
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مومن کو اگر تکلیف ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرماتے ہیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تکلیف کے وقت اللہ کے انعامات پر نظر رکھنی چاہیے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ مومن بندے کو ایک کانٹے کے برابر بھی تکلیف نہیں دینا چاہتے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1180 سے ماخوذ ہے۔