حدیث نمبر: 2573
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِى هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ ، حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ " .

عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، نہ تھکاوٹ، نہ بیماری، نہ غم حتیٰ کہ کوئی فکر بھی جو اسے فکرمند کر دے مگر اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2573
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5642 | سنن ترمذي: 966

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"مسلمان کو جو مرض ہویاتھکاوٹ،تکلیف ہویا پریشانی یا غم جو اس کوفکر میں مبتلا کرے اس کے سبب اس کی بُرائیاں مٹتی ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6568]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
وصب: مرض۔
(2)
نصب: تکان۔
(3)
سقم، بیماری۔
(4)
حزن: پریشانی۔
(5)
هم: فکر و اندیشہ جو اذیت کا باعث بنے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2573 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5642 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5642. حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مسلمان کو جو بھی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکیلف اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اسے کوئی کاٹنا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالٰی اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5642]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث کا سبب ورود یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت اچانک تکلیف ہوئی تو آپ شدت درد کی وجہ سے بستر پر کروٹیں لینے لگے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اس طرح کرتا تو آپ ناراض ہو جاتے۔
اس وقت آپ نے فرمایا: ’’صالحین کو مصائب و آلام سے دوچار کیا جاتا ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 159/6, 160)
ابن حبان کی ایک روایت میں ہے کہ تکلیف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بھی بلند کرتا ہے۔
(صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان: 167/7، رقم: 2906) (2)
اس کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف، رفع عقاب اور حصول ثواب دونوں کا سبب بن جاتی ہے۔
بہرحال اگر انسان کو تکلیف آئے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، اور اگر اسے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر برداشت کرے تو حصول ثواب کا بھی باعث ہے۔
(فتح الباري: 131/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5642 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 966 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بیمار کے ثواب کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو جو بھی تکان، غم، اور بیماری حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 966]
اردو حاشہ: 1؎: مطلب یہ ہے کہ مومن کودنیامیں جوبھی آلام ومصائب پہنچتے ہیں اللہ انہیں اپنے فضل سے اس کے گناہوں کاکفارہ بنادیتاہے، لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب مومن صبرکرے، اور اگروہ صبرکے بجائے بے صبری کا مظاہرہ اورتقدیرکا رونا رونے لگے تو وہ اس اجرسے تومحروم ہوہی جائے گا، اورخطرہ ہے کہ اسے مزید گناہوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 966 سے ماخوذ ہے۔