حدیث نمبر: 2568
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .

سعید بن منصور اور ابوربیع زہرانی نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ابوربیع نے کہا: انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا۔ اور سعید کی حدیث میں ہے: (ثوبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے درمیان گزرنے والی روش پر ہوتا ہے۔“

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .

ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش پر رہتا ہے۔“

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .

یزید بن زریع نے کہا: ہمیں خالد نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء رحبی سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش میں موجود ہوتا ہے۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَزِيدَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَمَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : جَنَاهَا .

یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں عاصم احول نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے خبر سنائی، انہوں نے ابواشعث سے، انہوں نے ابواسماء رحبی سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ مسلسل جنت کی روش میں رہا۔“ آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! جنت کی روش کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے پھل جنہیں وہ چنتا ہے۔“

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

مروان بن معاویہ نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2568
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2568 | سنن ترمذي: 967

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2568 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو بیمار کی عیادت کے لیے گیا وہ واپس لوٹنے تک جنت کے پھل میں رہتاہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6552]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مخرفة: باغ، یا اس کی روش، یا اس تک پہنچانے کا راستہ۔
خرفة: پھل۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا بیمار کی عیادت کے لیے آنا جانا، اس قدر پسندیدہ اور اعلیٰ عمل ہے کہ وہ جنت میں جانے اور اس کے پھل کے حصول کا ذریعہ اور سبب ہے، کیونکہ یہ عمل بیمار کی تسلی اور مسرت کا باعث بنتا ہے۔
اس لیے اس عمل کو اس کی راحت و آسائش میں خلل کا باعث نہیں ہونا چاہیے یا اس کے پاس اتنا زیادہ وقت بیٹھنا کہ اس کے لیے اذیت اور تکلیف کا سبب بنے درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2568 سے ماخوذ ہے۔