صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللَّهِ: باب: اللہ تعالیٰ کے واسطے محبت کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا ، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ ، قَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لَا ، غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ " .عبدالاعلیٰ بن حماد نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے گیا جو دوسری بستی میں تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو اس کی نگرانی (یا انتظار) کے لیے مقرر فرما دیا۔ جب وہ شخص اس (فرشتے) کے سامنے آیا تو اس نے کہا: کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں اپنے ایک بھائی کے پاس جانا چاہتا ہوں جو اس بستی میں ہے۔ اس نے پوچھا: کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے جسے مکمل کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بس مجھے اس کے ساتھ صرف اللہ عزوجل کی خاطر محبت ہے۔ اس نے کہا: تو میں اللہ ہی کی طرف سے تمہارے پاس بھیجا جانے والا قاصد ہوں کہ اللہ کو بھی تمہارے ساتھ اسی طرح محبت ہے جس طرح اس کی خاطر تم نے اس (بھائی) سے محبت کی ہے۔“
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .امام صاحب اپنے ایک اور استادسے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ارصده: اس کو انتظار میں بٹھا دیا۔
(2)
مدرجته: اس کی رہ گذر پر۔
یعنی راستہ جس پر وہ چل کر آ رہا تھا۔
(3)
نعمة تربها: احسان جس کو تم پختہ کرنا چاہتے ہو۔
اس کی اصلاح و درستگی چاہتے ہو۔
یعنی کوئی دنیوی مفاد وابستہ ہے، جس کی اصلاح یا وصول مقصود ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کسی بندے کا اپنے کسی بھائی سے اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے محبت کرنا اور اس لَلهی محبت کے تقاضے سے، اس سے میل ملاقات رکھنا ایسا محبوب عمل ہے جو بندے کو اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فرشتہ کے ذریعہ اس کو اپنی محبت کا پیغام پہنچا دیتا ہے۔