حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ ، أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں رکھوں گا، آج کے دن جب میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2566
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پوچھے گا،میری جلالت وعظمت کے سبب باہمی محبت کرنے والے کہاں ہیں؟آج کے دن میں انہیں اپنے سائے میں سایہ فراہم کروں گا،جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6548]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جو لوگ آپس میں محض اللہ کی عظمت و جلالت کی خاطر اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لیے محبت کرتے ہیں کوئی دنیوی مفاد مطلوب نہیں ہوتا، انہیں قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ فراہم فرمائے گا۔
یا اپنی خاص حفاظت و رحمت کا سایہ بخشے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6548 سے ماخوذ ہے۔