صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ: باب: کینہ رکھنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" سوموار اورجمعرات کے روز جنت کے دروازے کھولےجاتے ہیں اور ہر اس بندے کو معاف کردیا جاتا ہے،جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا،سوائے اس بندے کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ اور عداوت ہے،ان کے بارےمیں کہاجاتا ہے،ان دونوں کامعاملہ مؤخر کرو،حتیٰ کہ آپس میں صلح کرلیں،ان دونوں کو مہلت دو،حتیٰ کہ باہمی صلح کرلیں،ان دونوں کو ڈھیل دو،حتیٰ کہ آپس میں صلح کرلیں۔"
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ : إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ ، وقَالَ قُتَيْبَةُ : إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ .زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے عبدالعزیز دراوردی سے حدیث بیان کی، ان دونوں (جریر اور عبدالعزیز) نے سہیل سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند روایت کی، البتہ ابن عبدہ سے دراوردی کی بیان کردہ حدیث میں ہے: ”سوائے ان دو کے جنہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ رکھا ہو۔“ اور قتیبہ نے کہا: ”سوائے ان دو کے جنہوں نے دوری اختیار کر رکھی ہو۔“
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ مَرَّةً ، قَالَ : " تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ ، وَاثْنَيْنِ ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " .سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے ایک بار اس حدیث کو مرفوعاً بیان کیا، کہا: ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو، تو (ان کے بارے میں) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں، ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ : يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ ، إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا ، أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دودن،پیر اور جمعرات کوپیش کیے جاتےہیں تو ہر مومن بندہ کومعاف کردیاجاتا ہے،سوائے اس بندہ کےکہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو،ان کے بارے میں کہاجاتاہے،ان دونوں کو چھوڑے رکھو یا مؤخر رکھوحتیٰ کہ یہ آپس کے کینہ اورباہمی عداوت سے باز آجائیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
شحناء: بغض و عداوت اور کینہ، انظروا: ان کی مہلت اور ڈھیل اور ان کے معانی کے معاملہ کو مؤخر کر دو۔
فوائد ومسائل: پیر اور جمعرات کے روز اللہ کے حضور اعمال کی پیشی، ایک روٹین ورک یا ضابطہ کار ہے، وگرنہ اللہ تعالیٰ تمام اعمال سے شخصی طور پر آگاہ ہے اور جنت کے دروازے کھولنا اور اس بات کی علامت ہے کہ آج لوگوں کو معافی ملے گی اور جو انسان کفروشرک سے بچ کر ایمان رکھتا ہے، اس کو معافی مل جاتی ہے، لیکن باہمی عداوت اور کینہ ایسا گھناؤنا جرم ہے کہ اس کے مرتکب کے لیے معافی نہیں ہے، جب تک اس جرم سے باز نہ آ جائے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والوں کی اس دن مغفرت کی جاتی ہے، سوائے ان کے جنہوں نے باہم قطع تعلق کیا ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان دونوں کو لوٹا دو یہاں تک کہ آپس میں صلح کر لیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2023]
وضاحت:
1؎:
پیر اور جمعرات یہ ایسے دودن ہیں جن کے بارے میں بعض روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دو دنوں میں (اللہ کے یہاں) بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، آپ ﷺ ان دو دنوں میں اہتمام سے روزہ رکھتے تھے، اور مسلم کی روایت ہے کہ پیر کے دن آپﷺ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن آپﷺ کی بعثت بھی ہوئی۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اعمال سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کو اعمال (اللہ کے حضور) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 747]
نوٹ:
(سند میں محمد بن رفاعہ لین الحدیث راوی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے، تو پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو شنبہ اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے دو ایسے لوگوں کے جنہوں نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر رکھا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ باہم صلح کر لیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1740]
فوائد و مسائل:
(1)
سوموار اور جمعرات کو نفل روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا چا ہیے۔
(2)
روزہ ایک بڑا نیک عمل ہے جس کی برکت سے مغفرت کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔
(3)
مسلمانو ں کا ایک دوسرے سے بلا وجہ ناراض رہنا بڑا گنا ہ ہے
(4)
کسی دینی وجہ سے ناراضی رکھنا اور اہل و عیال کو تنبیہ کرنے کے لئے ناراض ہو جانا اس وعید میں شامل نہیں۔
(5)
بعض لوگوں نے سوموار کے روزے سے عید میلاد کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے سوموار کے دن پیدا ہونے پر علمائے کرام کا اتفاق ہے لیکن استدالال محل نظر ہے اس لئے کہ اس دن روزہ رکھنا سنت ہے نہ کہ عید منانا اور عید روزے کے منافی ہے نیز ہفت روزہ عید پر سالانہ عید کو قیاس کرنا درست نہیں۔
کیونکہ ربیع الاول رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہر سال آتا رہا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس مہینے میں عید نہیں منائی۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: (عید میلاد کی تار یخی و شرعی حيثیت اور مجوزین کے دلائل کا جائزہ از حا فظ صلاح الد ین یوسف رحمۃ اللہ علیہ)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اعمال کا لکھا جانا اور ان کا ہر سوموار اور ہر جمعرات اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جانا برحق ہے، اگر انسان یہی بات اپنے ذہن میں رکھے تو یہی اس کی اصلاح کے لیے کافی ہے۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے اعمال سوموار کو اور منگل اور بدھ کے اعمال جمعرات کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ جب انسان کا یہ پختہ عقیدہ ہوگا تو وہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار سوچ سمجھ کر گزارے گا، اور ایسے اعمال کر نے کی کوشش کرے گا جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے، اور اگلے دنوں میں اپنا خصوصی کرم وفضل فرمائے، افسوس کہ انسان سب کچھ بھول جاتا ہے حتٰی کہ اپنی موت کو بھی بھول جاتا ہے۔ نیز اس حدیث سے سوموار اور جمعرات کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، اس وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں دنوں کا نفلی روزہ بھی رکھتے تھے، اس حدیث سے کینہ اور شرک کی شدید مذمت بھی ثابت ہوتی ہے۔