حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ ، وَلَا يَخْذُلُهُ ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا ، وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ ، حَرَامٌ دَمُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعِرْضُهُ " .

داؤد بن قیس نے ہمیں عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان (دوسرے) مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا، (پھر فرمایا): ”کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہیں۔“

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ ، وَزَادَ وَنَقَصَ ، وَمِمَّا زَادَ فِيهِ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ .

امام صاحب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ایک دوسرے استاد سے کمی وبیشی کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں،اس میں اضافہ یہ ہے،"اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا،لیکن وہ تو تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے،"اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ ، وَأَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ، وَأَعْمَالِكُمْ " .

یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2564
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک دوسرے سے حسد نہ کرواور بولی نہ بڑھاؤ،ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اور ایک دوسرے کی خریدوفروخت پر خریدوفروخت نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو،ہرمسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،اس پر ظلم وزیادتی نہ کرے،"اور جب وہ اس کی مدد واعانت کامحتاج ہواس کی مددکرے،"اس کو بے یارمددگار نہ چھوڑے،اس کو حقیر نہ جانے،یعنی اسکے ساتھ حقارت کابرتاؤ نہ کرے،تقویٰ یہاں ہے،"پھرآپ نے تین بار اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6541]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
لايخذله: جب وہ اس کی مدد و اعانت کا محتاج ہو تو اس کی مدد سے دستکش نہ ہو، اس کو ظلم و ستم سے بچانے کے لیے اس کی مدد اور اعانت کرے، " یعنی جب اس کو ظلم و ستم سے بچانا اس کے لیے ممکن ہو تو وہ اسے گریز نہ کرے۔
(2)
لايحقروه: اس کو حقیر خیال نہ کرے اور اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک نہ کرے۔
(3)
التقوي ههنا: اللہ کے ڈر اور خوف کا تعلق دل سے ہے اور کسی کے معزز و محترم کا مدار تقویٰ پر ہے، ہو سکتا ہے تم کسی کو ظاہری حال سے کم تر خیال کرو اور وہ اپنے دلی تقویٰ کی بنا پر اللہ کے ہاں محترم و مکرم ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2564 سے ماخوذ ہے۔