صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلاَثٍ بِلاَ عُذْرٍ شَرْعِيٍّ: باب: بغیر عذر شرعی کے تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے خفا رہنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ " .حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کسی مسلمان کے لیےجائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زائد چھوڑ دے کہ باہمی ملیں تو یہ ادھر منہ کرلے،وہ ادھر نہ کرلے،ان میں سے بہتر وہی ہے،جو سلام کرنے میں پہل کرے۔"
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ ، وَمِثْلِ حَدِيثِهِ إِلَّا قَوْلَهُ ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا ، فَإِنَّهُمْ جَمِيعًا قَالُوا فِي حَدِيثِهِمْ غَيْرَ مَالِكٍ ، فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا .سفیان، یونس، (محمد بن ولید) زبیدی اور معمر سب نے زہری سے مالک کی سند کے ساتھ، اس قول کے سوا ”یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے“ انہی کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر مالک بن انس کے سوا سب نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ کہے: ”یہ بھی اس کی طرف نہ دیکھے، وہ بھی اس کی طرف نہ دیکھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ان يهجر: ترک کر دے، چھوڑ دے، یعنی آمنا سامنا ہو جائے تو گفتگو کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے منہ پھر لیں، لیکن انسان کی فطرت اور مزاج کا لحاظ رکھتے ہوئے، تین دن تک انسان گناہ ہونے سے محفوظ رہتا ہے، ہاں اگر کوئی شرعی تقاضا ہو کہ اس کے ساتھ بول چال سے شرعی حدود کے پامال ہونے کی صورت پیدا ہوتی ہے تو پھر ترک تعلقات جائز ہے یا بطور تادیب اور سرزنش جائز ہے۔