صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا: باب: ناتا توڑنا حرام ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ ، فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے (بعض) رشتہ دار ہیں، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں، میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں، میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے، ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا۔“
حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سےحسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے،بھائی بھائی بن جاؤ،یا اللہ کے بندو!بھائی بھائی ہوجاؤ،کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلقات منقطع کرے،یا اس کو چھوڑدے۔"
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .محمد بن ولید زبیدی اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : وَلَا تَقَاطَعُوا .امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے ابن عیینہ سے یہ لفظ زائد لاتے ہیں،"ولا تقاطعوا"باہمی تعلقات نہ توڑو۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلاهما ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَمَّا رِوَايَةُ يَزِيدَ عَنْهُ ، فَكَرِوَايَةِ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، يَذْكُرُ الْخِصَالَ الْأَرْبَعَةَ جَمِيعًا ، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا .یزید بن زریع اور عبدالرزاق، دونوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ معمر سے یزید کی روایت اسی طرح ہے جس طرح سفیان کی روایت زہری سے ہے، انہوں نے چاروں خصلتیں بیان کی ہیں، البتہ عبدالرزاق کی روایت اس طرح ہے: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو (منہ نہ موڑو۔)“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
يجهلون علي: جهل، حلم کے مقابلہ میں ہے، اس لیے اس سے مراد اشتعال انگیز سلوک ہے، جس سے انسان کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور وہ اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتا، اس لیے مراد لڑائی جھگڑا بھی ہو سکتا ہے۔
(2)
تسفهم: اسف البعير سے ماخوذ ہے، یعنی اونٹ کو خشک گھاس چرائی۔
(3)
المل: گرم راکھ، یعنی تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے، جس طرح گرم راکھ کھانے والے کو تکلیف ہوتی ہے، اسی طرح ان قطع رحم کرنے والوں کو گناہ ملے گا۔
(4)
من الله ظهير: اللہ کی طرف سے معاون و مددگار۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی رشتہ دار کی بدسلوکی اور قطع رحمی، دوسرے رشتہ دار کے لیے بدسلوکی اور قطع رحمی کی وجہ جواز نہیں بن سکتی، کیونکہ اگر ایک رشتہ دار برا طرز عمل اختیار کرتا ہے، یا تعلقات کو توڑتا ہے تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا گویا اس کو گرم راکھ کھلانا ہے، جس کی اذیت اور تکلیف سے وہی دوچار ہو گا، اچھا سلوک کرنے والا یا تحمل و بردباری کا وطیرہ اختیار کرتے ہوئے، صلہ رحمی کرنے والا تو اللہ کے ہاں معزز اور محترم ٹھہرتا ہے اور اس کو اللہ کی طرف سے معین اور مددگار ملتا ہے اور بخاری شریف میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "وہ آدمی صلہ رحمی کا حق ادا نہیں کرتا جو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بدلہ میں صلہ رحمی کرتا ہے، جو اس کے ساتھ صلہ رحمی کا وطیرہ اپناتے ہیں، صلہ رحمی کا حق ادا کرنے والا دراصل وہ ہے جو اس حالت میں صلہ رحمی کرتا ہے، جبکہ اس کا رشتہ دار اس کے ساتھ قطع رحمی کا معاملہ کرتا ہے، یعنی اس کے حقوق تلف کرتا ہے۔