صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا: باب: ناتا توڑنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ قَالَت : بَلَى ، قَالَ : فَذَاكِ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ { 22 } أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ { 23 } أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْءَانَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا { 24 } سورة محمد آية 22-24 " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا حتیٰ کہ جب وہ ان سے فارغ ہو گیا تو رحم نے کھڑے ہو کر کہا: یہ (میرا کھڑا ہونا) اس کا کھڑا ہونا ہے جو قطع رحمی سے پناہ کا طلب گار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، (اس مقصد کے لیے تمہارا کھڑا ہونا مجھے قبول ہے) کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں اسی سے تعلق رکھوں جو تمہارا تعلق جوڑ کر رکھے اور اس سے تعلق توڑ دوں جو تمہارا تعلق توڑ دے؟“ رحم نے کہا: کیوں نہیں! (میں راضی ہوں۔) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تمہیں یہ عطا کر دیا گیا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو (قرآن مجید کا یہ مقام) پڑھ لو: «فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا»“
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے جو صلہ رحمی کرتے ہوئے رشتہ داروں اور قرابت کے حقوق ادا کرے گا اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے وابستہ کر لے گا اور اپنا بنا لے گا اور جو قطع رحمی کا رویہ اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے کاٹ دے گا اور اس کو دور اور بے تعلق کر دے گا اور ایسا انسان اللہ کے لطف و کرم اور اس کے احسان و اکرام سے محروم ہو گا۔
دوسری روایت میں ہے کہ اللہ نے ناطہ سے فصیح بلیغ زبان میں یہ گفتگو کی۔
ترجمہ باب سے اس سے نکلا کہ اللہ تعالی نے ناطہ سے کلام فرمایا۔
آیت میں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار ودولت ملنے پر فساد وقطع رحمی ضرور کرتےہیں۔
إلا ماشاء اللہ۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےتائید کے طور پر یہ آیت کریمہ خود تلاوت فرمائی تاکہ صلہ رحمی کی اہمیت اُجاگر ہو۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4831)
2۔
اس حدیث کے مطابق اللہ سبحانہ وتعالیٰ خود رحم سے ہم کلام ہو اور اس سے خطاب کیا، اس کلام کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے مبنی برحقیقت تسلیم کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کے خطابات اس کی نازل کی ہوئی کتابوں میں محصور نہیں ہیں۔
اس کے خطابات ایسی صفات ہیں جو اس کی مشیت سے متعلق ہیں۔
مخلوق کے ساتھ کسی بھی انداز سے ان کی مشابہت نہیں ہے۔
آیت کریمہ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار اور مال ودولت ملنے پر اپنے رشتے داروں سے فساد اور قطع رحمی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
العیاذ باللہ۔