حدیث نمبر: 2554
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ قَالَت : بَلَى ، قَالَ : فَذَاكِ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ { 22 } أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ { 23 } أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْءَانَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا { 24 } سورة محمد آية 22-24 " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا حتیٰ کہ جب وہ ان سے فارغ ہو گیا تو رحم نے کھڑے ہو کر کہا: یہ (میرا کھڑا ہونا) اس کا کھڑا ہونا ہے جو قطع رحمی سے پناہ کا طلب گار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، (اس مقصد کے لیے تمہارا کھڑا ہونا مجھے قبول ہے) کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں اسی سے تعلق رکھوں جو تمہارا تعلق جوڑ کر رکھے اور اس سے تعلق توڑ دوں جو تمہارا تعلق توڑ دے؟“ رحم نے کہا: کیوں نہیں! (میں راضی ہوں۔) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تمہیں یہ عطا کر دیا گیا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو (قرآن مجید کا یہ مقام) پڑھ لو: «فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا»“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2554
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4830 | صحيح البخاري: 5987 | صحيح البخاري: 5988 | صحيح البخاري: 7502

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بے شک نے مخلوق کوپیدا کیا،حتیٰ کہ جب وہ ان کے پیدا کرنے سے فارغ ہواتورحم(رشتہ داری) نے کھڑے ہوکرکہا،یہ اس کا مقام ہے،جو قطع رحمی سے پناہ چاہتا ہے،اللہ نےفرمایا،ہاں،کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ میں اس سے (تعلق ورابطہ) جوڑوں،جوتجھے جوڑے اور اس سے(تعلق وربط) کاٹ لوں جو تجھے توڑے؟حق قرابت نے کہا،کیوں نہیں،اللہ نے فرمایا،یہ تجھے حاصل ہے،پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اگرتم چاہوتو یہ آیت پڑھ لو،"کہیں ایسے تو نہیں ہے،اگر تمہیں اقتدار ملے تو تم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6518]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی باہمی قرابت اور رشتہ داری کو اللہ تعالیٰ کے ہاں خصوصی اہمیت حاصل ہے، بلکہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، رحم، رحمٰان سے مشتق ہے اور اللہ کی صفت رحمت ہی اس کا سرچشمہ و منبع ہے۔
اس لیے جو صلہ رحمی کرتے ہوئے رشتہ داروں اور قرابت کے حقوق ادا کرے گا اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے وابستہ کر لے گا اور اپنا بنا لے گا اور جو قطع رحمی کا رویہ اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے کاٹ دے گا اور اس کو دور اور بے تعلق کر دے گا اور ایسا انسان اللہ کے لطف و کرم اور اس کے احسان و اکرام سے محروم ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2554 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7502 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7502. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا جب وہ اس فارغ ہوا تو رحم کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے رحم! ٹھہر جا۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ! یہ قطع رحمی سے تیری پناہ مانگنے کامقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے ملائے گا میں اس ملاؤں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اسے توڑوں گا؟ رحم نے عرض کیا: اے میرے رب! کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بس یہ تیرے لیے ہے۔ پھر سییدنا ابو ہریرہ ؓ نے آیت تلاوت کی: پھر یقنیناً تم سے توقع ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو تم زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتے ناتے توڑ ڈالو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7502]
حدیث حاشیہ: اللہ تعالیٰ کا ایک واضح کلام نقل ہوا یہ باب سے مطابقت ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ اللہ نے ناطہ سے فصیح بلیغ زبان میں یہ گفتگو کی۔
ترجمہ باب سے اس سے نکلا کہ اللہ تعالی نے ناطہ سے کلام فرمایا۔
آیت میں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار ودولت ملنے پر فساد وقطع رحمی ضرور کرتےہیں۔
إلا ماشاء اللہ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7502 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7502 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7502. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا جب وہ اس فارغ ہوا تو رحم کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے رحم! ٹھہر جا۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ! یہ قطع رحمی سے تیری پناہ مانگنے کامقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے ملائے گا میں اس ملاؤں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اسے توڑوں گا؟ رحم نے عرض کیا: اے میرے رب! کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بس یہ تیرے لیے ہے۔ پھر سییدنا ابو ہریرہ ؓ نے آیت تلاوت کی: پھر یقنیناً تم سے توقع ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو تم زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتے ناتے توڑ ڈالو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7502]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےتائید کے طور پر یہ آیت کریمہ خود تلاوت فرمائی تاکہ صلہ رحمی کی اہمیت اُجاگر ہو۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4831)

اس حدیث کے مطابق اللہ سبحانہ وتعالیٰ خود رحم سے ہم کلام ہو اور اس سے خطاب کیا، اس کلام کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے مبنی برحقیقت تسلیم کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کے خطابات اس کی نازل کی ہوئی کتابوں میں محصور نہیں ہیں۔
اس کے خطابات ایسی صفات ہیں جو اس کی مشیت سے متعلق ہیں۔
مخلوق کے ساتھ کسی بھی انداز سے ان کی مشابہت نہیں ہے۔
آیت کریمہ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار اور مال ودولت ملنے پر اپنے رشتے داروں سے فساد اور قطع رحمی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
العیاذ باللہ۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7502 سے ماخوذ ہے۔