صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب رَغِمَ أَنْفُ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا عِنْدَ الْكِبَرِ فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ: باب: بدبخت ہے وہ انسان جو بڑھاپے میں والدین کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کرے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَغِمَ أَنْفُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ، قِيلَ : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:"ناک خاک آلود ہو،پھر ناک خاک آلود ہو،پھر ناک خاک آلود ہو،"آپ سے پوچھاگیا،کس کی؟اےاللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!فرمایا:"جس شخص نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا،ان میں سے ایک کو،یادونوں کو پھر(ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔"
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَغِمَ أَنْفُهُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ ، قِيلَ : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس کاناک خاک آلود ہو،پھر اس کا ناک خاک آلودہو،پھر اس کا ناک خاک آلودہو، پوچھا گیا،کس کی؟اے اللہ کے رسول!فرمایا:"جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا،ان میں سے ایک کو یا دونوں کو،پھر(ان کی خدمت اور ان کادل خوش کرکے) جنت حاصل نہ کرسکا۔"
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَغِمَ أَنْفُهُ ، ثَلَاثًا ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ .سلیمان بن بلال نے کہا: مجھے سہیل نے اپنے والد (ابوصالح) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی۔“ پھر (آگے) اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
رغم انفه: اس کی ناک رغام گردوغبار خاک میں ملے، یعنی وہ ذلیل و خوار اور رسوا ہو۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، ماں باپ کی خدمت، ان سے حسن سلوک اور ان کو راحت پہنچا کر ان کی دعا لینا جنت حاصل کرنے کا خاص وسیلہ ہے، والدین کی خدمت اور ان سے حسن سلوک ہر عمر میں مطلوب ہے، لیکن بڑھاپے کی عمر میں جب وہ ازکار رفتہ ہو جائیں تو وہ اس وقت زیادہ خدمت اور راحت رسانی کے محتاج ہوتے ہیں، چونکہ اس صورت میں وہ ایک بوجھ محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ وہ دینے کی بجائے لینے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، اس لیے اسی حالت میں، ان کی خدمت کرنا اور ان کو راحت پہنچا کر خوش رکھنا، اللہ تعالیٰ کو محبوب و مقبول عمل ہے، جو جنت میں داخل ہونے کا آسان زینہ ہے، اس لیے جس اللہ کے بندے کو ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک ہی بڑھاپے کی حالت میں خدمت کر کے جنت میں جانے کا موقع میسر آ جائے، لیکن وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے، بلاشبہ وہ بڑا بدنصیب اور محروم ہے، اس لیے آپ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا، وہ نامراد، ذلیل و خوار اور رسوا ہوں۔