حدیث نمبر: 2548
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي ؟ قَالَ : أُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ أُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ أُمُّكَ ؟ قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ أَبُوكَ " ، وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ : مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّاسَ .

قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف ثقفی اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: لوگوں میں سے حسنِ معاشرت (خدمت اور حسن سلوک) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری ماں۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تمہارا والد۔“ اور قتیبہ کی حدیث میں ہے: میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور انہوں نے "لوگوں میں سے" کا ذکر نہیں کیا۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ؟ قَالَ : أُمُّكَ ، ثُمَّ أُمُّكَ ، ثُمَّ أُمُّكَ ، ثُمَّ أَبُوكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " .

فضیل نے عمارہ بن قعقاع سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سے (میری طرف سے) حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہارا باپ، پھر جو تمہارا زیادہ قریبی (رشتہ دار) ہو، (پھر جو اس کے بعد) تمہارا قریبی ہو۔“ (اسی ترتیب سے آگے حق دار بنیں گے۔)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، وَابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ .

شریک نے عمارہ اور ابن شبرمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس کے بعد (شریک نے) جریر کی روایت کے مانند بیان کیا اور مزید کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہارے باپ کی قسم! تمہیں ضرور بتایا جائے گا۔“

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ : مَنْ أَبَرُّ ، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ : أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .

محمد بن طلحہ اور وہیب دونوں نے ابن شبرمہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ وہیب کی حدیث میں ہے: میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ اور محمد بن طلحہ کی حدیث میں ہے: لوگوں میں سے میری طرف سے حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ پھر جریر کی حدیث کے مانند بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2548
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنےلگا،میری اچھی رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون انسان ہے؟آپ نےفرمایا،"تیری ماں۔"اس نے پوچھا،"پھر کون؟فرمایا:"تیری والدہ"پوچھا،پھر کون؟فرمایا:"پھر بھی تیری ماں،"اس نے دریافت کیا،پھر کون؟فرمایا،"پھر تیرا باپ۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6500]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
حسن صحابتي: میری بہترین رفاقت یعنی حسن سلوک اور حسن معاشرت اور خدمت۔
فوائد ومسائل: جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں اس مفہوم کا سوال معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خدمت اور حسن سلوک کے بارے میں ماں کا حق باپ سے زیادہ اور مقدم ہے، کیوں ماں صنف نازک اور کمزور ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت مند زیادہ ہے، جبکہ عام طور پر اس کی رحمدلی اور نرمی کی وجہ سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور باپ کے رعب و داب اور گھر کا نگران و نگہبان ہونے کی وجہ سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے، اس لیے شریعت میں اس کمزور صنف کی خدمت کو زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، نیز قرآں مجید میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتے ہوئے، خاص طور پر ماں کی ان تین تکلیفوں اور مصیبتوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو حمل، ولادت جس میں ماں کو موت و حیات کی کشمکش کے انتہائی مشکل اور جانگداز مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے، پھر دودھ پلانے اور پرورش و پرداخت کا مرحلہ پیش آتا ہے، جس میں ماں کو اولاد کی خاطر اپنا آرام و سکون تج کرنا پڑتا ہے، بہت سی چیزوں سے دست کش ہونا پڑتا ہے، گرم اور سرد موسم کے گرم و سرد حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2548 سے ماخوذ ہے۔