حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا " ، قَالَ : فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَخَرَجَ مِنْهَا .

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گےجس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہوگاتم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو،کیونکہ ان کا(ہم پر) حق بھی ہے اور رشتہ بھی،پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا۔"(حرملہ بن عمران نے) کہا:تو(عبدالرحمان بن شماسہ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے،وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں سے نکل آئے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ ، وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا ، أَوَ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا ، فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَاخْرُجْ مِنْهَا " ، قَالَ : فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ ، يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا .

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جلد ہی مصر کو فتح کرلو گے، وہ ایسی سرزمین ہے جہاں قیراط کا نام (کثرت سے) لیا جاتا ہوگا۔ جب تم اس سرزمین کو فتح کرلو گے تو وہاں کے لوگوں سے اچھا سلوک کرنا، کیونکہ ان کا حق بھی ہے اور رشتہ بھی۔“ یا فرمایا: ”ان کا حق ہے اور سسرالی رشتہ ہے، پھر جب تم وہاں پر دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے دیکھو تو وہاں سے نکل آنا۔“ عبدالرحمان بن شماسہ نے کہا: پھر میں نے سیدنا عبدالرحمان بن شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2543
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گےجس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہوگاتم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو،کیونکہ ان کا(ہم پر) حق بھی ہے اور رشتہ بھی،پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا۔"(حرملہ بن عمران نے) کہا:تو(عبدالرحمان بن شماسہ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے،وہ ایک اینٹ کی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6493]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
ذمة ورحما: عہد اور رشتہ داری سے مراد، حضرت حاجرہ کا اہل مصر سے ہونا ہے، ان کی بنا پر وہ احترام کا حق رکھتے ہیں۔
(2)
يتنازعان في موضع لبنة: وہ اینٹ کے برابر جگہ پر اتریں گے، یعنی معمولی معمولی فوائد و منافع اور مفادات پر اختلاف شروع ہو جائیں گے، کھیتی باڑی کا غلبہ ہو گا اور دین کی اہمیت نہیں رہے گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2543 سے ماخوذ ہے۔