صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: اویس قرنی رحمہ اللہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ : أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ وَفَدُوا إِلَى عُمَرَ ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنَ الْقَرَنِيِّينَ ؟ فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنْ الْيَمَنِ ، يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ ، لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ ، فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ " .سلیمان بن مغیرہ نے کہا: مجھے سعید جریری نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اہل کوفہ ایک وفد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو حضرت اویس رضی اللہ عنہ کا ٹھٹا اڑاتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں قرن کے رہنے والوں میں سے کوئی ہے؟ وہ شخص (آگے) آ گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا، اس کا نام اویس ہو گا، یمن میں اس کی والدہ کے سوا کوئی نہیں جسے وہ چھوڑ کر آئے۔ اس (کے جسم) پر سفید (برص کے) نشان ہیں۔ اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے ایک دینار یا درہم کے برابر چھوڑ کر باقی سارا نشان ہٹا دیا، وہ تم میں سے جس کو ملے (وہ اس سے درخواست کرے کہ) وہ تم لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔“
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ ، وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ .حماد بن سلمہ نے سعید جریری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تابعین میں ایک بہترین شخص ہے جس کو اویس کہتے ہیں، اس کی ایک ماں ہے (یعنی رشتہ داروں میں سے صرف ماں زندہ ہو گی) اور اس کو ایک سفیدی ہو گی۔ تم اس سے کہنا کہ تمہارے لیے دعا کرے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ سَأَلَهُمْ ، أَفِيكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ ؟ حَتَّى أَتَى عَلَى أُوَيْسٍ ، فَقَالَ : أَنْتَ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَن ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ ، فَبَرَأْتَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَال : لَكَ وَالِدَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ ، كَانَ بِهِ بَرَصٌ ، فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ ، لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ ، فَافْعَلْ فَاسْتَغْفِرْ لِي ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : الْكُوفَةَ ، قَالَ : أَلَا أَكْتُبُ لَكَ إِلَى عَامِلِهَا ؟ قَالَ : أَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ ، فَوَافَقَ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ أُوَيْسٍ ، قَالَ : تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ، ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ ، كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ ، لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ ، فَأَتَى أُوَيْسًا ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ ، فَاسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : لَقِيتَ عُمَرَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ ، فَانْطَلَقَ عَلَى وَجْهِهِ ، قَالَ : أُسَيْرٌ وَكَسَوْتُهُ بُرْدَةً ، فَكَانَ كُلَّمَا رَآهُ إِنْسَانٌ ، قَالَ : مِنْ أَيْنَ لِأُوَيْسٍ هَذِهِ الْبُرْدَةُ " .زرارہ بن اوفیٰ نے اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن سے مدد کے لوگ آتے (یعنی وہ لوگ جو ہر ملک سے اسلام کے لشکر کی مدد کے لیے جہاد کرنے کو آتے ہیں) تو وہ ان سے پوچھتے کہ تم میں اویس بن عامر بھی کوئی شخص ہے؟ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود اویس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارا نام اویس بن عامر ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم مراد قبیلہ کی شاخ قرن سے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم برابر باقی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری ماں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمہارے پاس اویس بن عامر یمن والوں کی کمکی فوج کے ساتھ آئے گا، وہ قبیلہ مراد سے ہے جو قرن کی شاخ ہے۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم باقی ہے۔ اس کی ایک ماں ہے۔ اس کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے تو اس سے اپنے لیے دعا کرانا۔ تو میرے لیے دعا کرو۔ پس اویس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ کوفہ میں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں کوفہ کے حاکم کے نام ایک خط لکھ دوں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے خاکساروں میں رہنا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ جب دوسرا سال آیا تو ایک شخص نے کوفہ کے رئیسوں میں سے حج کیا۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کا حال پوچھا تو وہ بولا کہ میں نے اویس کو اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر میں اسباب کم تھا اور (خرچ سے) تنگ تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اویس بن عامر تمہارے پاس یمن والوں کے امدادی لشکر کے ساتھ آئے گا، وہ مراد قبیلہ کی شاخ قرن میں سے ہے۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا صرف درہم کے برابر باقی ہے۔ اس کی ایک ماں ہے جس کے ساتھ وہ نیکی کرتا ہے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے کہ وہ تیرے لیے دعا کرے تو اس سے دعا کرانا۔ وہ شخص یہ سن کر اویس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے دعا کرو۔ اویس نے کہا کہ تو ابھی نیک سفر کر کے آ رہا ہے (یعنی حج سے) میرے لیے دعا کر۔ پھر وہ شخص بولا کہ میرے لیے دعا کر۔ اویس نے یہی جواب دیا پھر پوچھا کہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا؟ وہ شخص بولا کہ ہاں ملا۔ اویس نے اس کے لیے دعا کی۔ اس وقت لوگ اویس کا درجہ سمجھے۔ وہ وہاں سے سیدھے چلے۔ اسیر نے کہا کہ میں نے ان کو ان کا لباس ایک چادر پہنائی جب کوئی آدمی ان کو دیکھتا تو کہتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی ہے؟ (وہ ایسے تھے کہ ایک مناسب چادر بھی ان کے پاس ہونا باعث تعجب تھا۔)