صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: باب: صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی دینے کی حرمت۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ " .حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،حضرت خالد بن ولید اورحضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان کچھ تلخی ہوئی تو حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پرتنقید کی،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میرے ساتھیوں میں سے کسی کو بُرا نہ کہو،کیونکہ تم میں سے کوئی اگراحد کے برابر سوناخرچ کرے تو وہ ان کے مدیا نصف مد کو بھی نہیں پاسکے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ وَوَكِيعٍ ذِكْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ .وکیع اور شعبہ نے اعمش سے جریر اور ابومعاویہ کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی، لیکن شعبہ اور وکیع کی حدیث میں عبدالرحمان بن عوف اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
خدمت اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مالی قربانیوں کو اس لیے فضیلت حاصل ہے کہ انہوں نے ایسے وقت میں خرچ کیا جب سخت ضرورت تھی، کافروں کا غلبہ تھا اور مسلمان محتاج تھے۔
مقصود مہاجرین اولین اور انصار کی فضیلت بیان کرنا ہے، ان میں ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے۔
لہذا باب کی مطابقت حاصل ہوگئی۔
یہ حدیث آپ نے اس وقت فرمائی جب خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف ؓ میں کچھ تکرار ہوئی۔
خالد نے عبدالرحمن کو کچھ سخت کہا۔
آپ نے خالد ؓ کو مخاطب کرکے یہ فرمایا۔
بعض نے کہا کہ یہ خطاب ان لوگوں کی طرف ہے جو صحابہ کے بعد پیداہوں گے۔
ان کو موجود فرض کرکے ان کی طرف خطاب کیا۔
مگر یہ قول صحیح نہیں ہے کیوں کہ خالد ؓ کی طرف خطاب کرکے آپ نے یہ حدیث فرمائی تھی اور خالد ؓ خود صحابہ میں سے ہیں۔
1۔
اس حدیث سے مہاجرین اولین اور انصار کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے جن میں حضرت ابوبکر ؓ سرفہرست ہیں۔
ان حضرات نے مسلمانوں پر ایسے وقت میں ا پنا مال خرچ کیا جب ہرطرف سے کفار کاغلبہ تھا اور مسلمان مال دولت کے محتاج تھے۔
2۔
یہ حدیث رسول اللہ ﷺ نے اس وقت بیان فرمائی جب حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کے مابین کچھ تلخ کلامی ہوئی۔
حضرت خالد بن ولید نے ؓ نے حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کو سخت سست کہا تو آپ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو مخاطب کرے یہ حدیث بیان فرمائی۔
(فتح الباري: 44/7)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے (اجر کے) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3861]
1؎: ان اصحاب سے مراد عام صحابہ نہیں بلکہ سابقوں اولون مرادہیں، اس لیے کہ ایک تو آپ کے اس فرمان کاسبب خالدبن ولید اور عبدالرحمن بن عوف(رضی اللہ عنہما)کے درمیان ایک جھگڑا تھاجس میں خالدنے عبدالرحمن بن عوف کوبرابھلاکہدیاتھا (اور خالد بھی صحابی ہیں)دوسرے آپ کا یہ فرمان ہے ''اگرتم میں سے کوئی...''اورظاہربات ہے کہ اس ''تم''سے صحابہ ہی مخاطب ہیں، ویسے جب یہ جائز نہیں ہواکہ متاخرصحابہ مقدم صحابہ کوبرابھلا کہیں، تو یہ بدرجہ اولیٰ ناجائزہوا کہ ایک غیرصحابی صحابہ کرام کو برا بھلا کہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں صرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 161]
امام مزی رحمۃ اللہ علیہ تحفۃ الاشرف میں لکھتے ہیں کہ سنن ابن ماجہ کے جن نسخوں میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کاتبوں کی غلطی ہے کیونکہ صحاح ستہ میں یہ حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
بہرحال اس غلطی سے حدیث کی صحت پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔
(2)
اس حدیث میں اہل بدر کی تخصیص نہیں شاید مصنف اس باب میں اس حدیث کو اس لیے لائے ہیں کہ اس عموم میں بدری صحابہ کرام بھی داخل ہیں۔
(3)
اس حدیث میں خطاب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بظاہر ایک معمولی عمل رکھتا ہے۔
(4)
صحابہ رضی اللہ عنھم کے اعمال کا مقام اس قدر بلند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس وقت یہ قربانیاں دی تھیں جب اسلام کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور ان چند نفوس قدسیہ کے سوا پوری دنیا میں اسلام کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا، علاوہ ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ایسا عظیم شرف ہے جس کا متبادل بڑے سے بڑا نیک عمل نہیں ہو سکتا۔
بڑے سے بڑا تابعی ادنٰی سے ادنٰی صحابی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
مُد، ماپنے کا ایک پیمانہ ہے جو صاع کے چوتھے حصے کے برابر ہوتا ہے اور صاع کی صحیح مقدار دو کلو اور سو گرام ہے، تاہم غلے کی جنس کے اختلاف کی وجہ سے یہ مقدار ڈھائی کلو تک ہو سکتی ہے۔