صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب بَيَانِ مَعْنٰي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «عَلٰي رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لَّا يَبْقٰي نَفْسٌ مَّنْفُوسَةٌ مِّمَّنْ هُوَ مَوْجُودٌ الْآنَ » باب: ”جو لوگ اس وقت زندہ ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں ہو گا“ کا مطلب۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ : " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی موت سے ایک ماہ قبل یہ سنا،"تم مجھے سے قیامت(وقوع کے) بارے میں دریافت کرتے ہو،اس کاعلم تو بس اللہ ہی کو ہے اورمیں اللہ کی قسم کھاکرکہتا ہوں،زمین پر کوئی زندہ نفس نہیں ہے،جس پر سو سال گزر جائیں۔
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ .امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور اس میں موت سے قبل ایک ماہ کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى كلاهما ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ " . وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبِ السِّقَايَةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ ، وَفَسَّرَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : نَقْصُ الْعُمُرِ .معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، کہا: ابونضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: آپ نے اپنی وفات سے ایک مہینہ یا قریباً اتنا عرصہ پہلے فرمایا: ”آج کوئی ایسا سانس لیتا ہوا انسان موجود نہیں کہ اس پر سو سال گزریں تو وہ اس دن بھی زندہ ہو۔“ اور لوگوں کو پانی پلانے والے عبدالرحمان (بن آدم) سے روایت ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ عبدالرحمان نے اس کا مفہوم بتایا اور کہا: عمر کی کمی (مراد ہے)۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ .یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے دونوں سندوں سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ " ، فَقَالَ سَالِمٌ : تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ ، إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زندہ نفسوں میں سے کوئی سو سال کو نہیں پہنچے گا۔"حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،ہم نے ان کے سامنے اس کایہ معنی ایک دوسرے کا بتایا،اس کا مقصد یہ ہے،اس دن جو مخلوق زندہ تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2250]
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔