صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ: باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین رحمها اللہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " ، قَالَ عِمْرَانُ : فَلَا أَدْرِي ، أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوجمرہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے زہدم بن مضرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں۔“ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو بار فرمایا یا تین بار؟ (پھر آپ نے فرمایا:) ”پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہو گی اور خیانت کریں گے جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا (جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہو گی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے)، وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِهِمْ ، قَالَ : لَا أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ ، وَجَاءَنِي فِي حَاجَةٍ عَلَى فَرَسٍ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَي ، وَشَبَابَةَ : يَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ ، وَفِي حَدِيثِ بَهْزٍ : يُوفُونَ كَمَا ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ .یحییٰ بن سعید، بہز اور شبابہ سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان سب کی حدیث میں ہے (حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا، شبابہ کی حدیث میں ہے کہ (ابوجمرہ نے) کہا: میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس ایک کام کے لیے آئے تھے، انہوں نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا، نیز یحییٰ (بن سعید) اور شبابہ کی حدیث میں ہے: ”وہ نذریں مانیں گے لیکن وفا نہیں کریں گے۔“ اور بہز کی حدیث میں اسی طرح ہے جس طرح ابن جعفر کی حدیث میں ہے: ”وہ (اپنی نذریں) پوری نہیں کریں گے۔“
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ : خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ : وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ .حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کرتے ہیں،"اس اُمت کی بہترین قرن وہ ہے،جس میں مبعوث کیاگیاہے،پھر جو لوگ ان سے متصل ہوں گے۔"ابوعوانہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے،انہوں نے کہا،اللہ ہی خوب جانتا ہے،آپ نے تیسری قرن کا ذکر فرمایا یانہیں،ہشام،قتادہ سے یہ اضافہ کرتے ہیں،"وہ قسم اُٹھائیں گے اور ان سے قسم کامطالبہ نہیں کیاگیا ہوگا۔"
تشریح، فوائد و مسائل
"
جن میں ائمہ اربعہ اورمحدثین کی بڑی تعداد شامل ہو جاتی ہے اور حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی ذیل میں آجاتے ہیں مگر دومرتبہ فرمانے کو ترجیح حاصل ہے۔
آخر میں پیش گوئی فرمائی جو حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہی ہے۔
جھوٹی گواہی دینے والے، امانتوں میں خیانت کرنے والے، عہد کر کے اسے توڑ نے والے آج مسلمانوں میں کثرت سے ملیں گے۔
ایسے لوگ ناجائز پیشہ حاصل کر کے جسمانی لحاظ سے موٹی موٹی توندوں والے بھی بہت دیکھے جا سکتے ہیں۔
اللهم لا تجعلنا منھم آمین۔
جیسا کہ ارشاد ہوا ہے کہ جھوٹ اور بددیانتی اور دنیا سازی ان کا رات دن کا مشغلہ ہوگا، اللھم لاتجعلنا منھم۔
آمین
1۔
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی اس حدیث میں شک ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانے کے بعد دوزمانوں کا ذکر کیا ہے یا تین کا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ،حضرت ابوہریرہ ؓ،اورحضرت بریرہ ؓ کی مرویات میں بھی شک ہے،البتہ اس حدیث کے اکثر طرق شک کے بغیر ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ا پنے سمت تین زمانوں کو خیرالقرون قراردیا ہے۔
ایک روایت میں چوتھے زمانے کا بھی ذکر ہے لیکن محدثین نے اسے صحیح قرارنہیں دیا۔
2۔
خیر القرون کےبعد جھوٹ اور خیانت عام ہوجائے گی اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کےبعد اس کا آغاز ہوچکا تھا لیکن وہ کسی شمار میں نہ تھا لیکن خیرالقرون کے بعد تو کھلے بندوں اس کا ارتکاب ہونے لگا۔
3۔
پھر اس حدیث میں ان نام نہاد مسلمانوں کے متعلق یہ پیش گوئی ہے جواخلاق وکردار کے اعتبار سے بدترین قسم کے لوگ ہوں گے۔
جھوٹ،بددیانتی اور دنیا سازی رات دن ان کا مشغلہ ہوگا۔
خیانت ایسی ظاہر ہوگی کسی کو دوسرے پر اعتماد نہیں ہوگا۔
بے فکری اور حرام خوری کی وجہ سے ان کے جسم موٹے ہوجائیں گے۔
موٹا آدمی ریاضت نہیں کرسکتا۔
یہ یاد رہے کہ وہ موٹا پامذموم ہے جو’’اپنی محنت اور کسب‘‘سے حاصل ہو۔
اگر کوئی طبعاً موٹا ہوجائے تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بشرط یہ کہ وہ اچھی صفات کا حامل ہو۔
(1)
اس حدیث میں امانت کی خیانت اور نذر کے پورا کرنے کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
جب خیانت کرنا مذموم ہے تو نذر کو پورا نہ کرنا بھی انتہائی قابل مذمت ہے، نیز اس حدیث میں نذر کو پورا نہ کرنا بطور عیب بیان کیا گیا ہے اور جو کام جائز ہوتا ہے اسے اس انداز سے بیان نہیں کیا جاتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نذر پوری نہ کرنا مستحسن امر نہیں ہے۔
(فتح الباري: 708/11) (2)
واضح رہے کہ حدیث میں مذکور موٹاپے سے مراد کسبی موٹاپا ہے کیونکہ پیدائشی موٹاپا غیر اختیاری ہوتا ہے اور یہ قابل مذمت نہیں ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت کے وقت لوگ عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے، نیز وہ حلال و حرام کی پروا نہیں کریں گے اور دنیا میں جانوروں کی طرح کھائیں گے، ان کا مقصد حیات صرف کھانا پینا ہو گا، اس بنا پر ان کے جسم پر چربی کی بہتات ہو گی اور ان میں موٹاپا نمایاں طور پر ظاہر ہو گا۔
واللہ أعلم
کبھی قسم پہلے کھالیں گے پھر گواہی دیں گے۔
حدیث کے جملہ ویشھدون ولا یستشھدون پر حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: وَبَرَهَا وَلَبَنَهَا وَوَلَدَهَا وَهِيَ الْمِنْحَةُ وَالْمَنِيحَةُ انْتَهَى وَقَالَ الْحَافِظُ فِي الْفَتْحِ الْمَنِيحَةُ بِالنُّونِ وَالْمُهْمَلَةِ وَزْنُ عَظِيمَةٍ هِيَ فِي الْأَصْلِ الْعَطِيَّةُ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْمَنِيحَةُ عِنْدَ الْعَرَبِ عَلَى وَجْهَيْنِ أَحَدُهُمَا أَنْ يُعْطِيَ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ صِلَةً فَتَكُونَ لَهُ وَالْآخَرُ أَنْ يُعْطِيَهُ نَاقَةً أَوْ شَاةً يَنْتَفِعُ بِحَلْبِهَا وَوَبَرِهَا زَمَنًا ثُمَّ يَرُدَّهَا وَقَالَ الْقَزَّازُ قِيلَ لَا تَكُونُ الْمَنِيحَةُ إِلَّا نَاقَةً أَوْ شَاةً وَالْأَوَّلُ أَعْرَفُ انْتَهَى و ذهب آخرونَ إلیٰ الجمع بینهما الخ (فتح)
یعنی ویشهدون ولا یستشهدون سے زید بن خالد کی حدیث مرفوع معارض ہے، جسے امام مسلم نے روایت کی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں؟ وہ وہ لوگ ہوں گے کہ وہ طلبی سے پہلے ہی خود گواہی دے دیں۔
ہردواحادیث کی ترجیح میں علماءکا اختلاف ہے۔
ابن عبدالبر نے حدیث میں زید بن خالد (مسلم)
کو ترجیح دی ہے کیوں کہ یہ اہل مدینہ کی روایت ہے۔
اور حدیث مذکور اہل عراق کی روایت سے ہے۔
پس اہل عراق پر اہل مدینہ کو ترجیح حاصل ہے۔
انہوں نے یہاں تک مبالغہ کیا کہ حدیث عمران مذکورہ کو کہہ دیا کہ اس کی کوئی اصل نہیں (حالانکہ ان کا ایسا کہنا بھی صحیح نہیں ہے)
دوسرے علماءنے حدیث عمران کو ترجیح دی ہے۔
اس لیے کہ اس پر ہر دو اماموں امام بخاری و امام مسلم کا اتفاق ہے۔
اور حدیث زید بن خالد کو صرف امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
تیسرا گروہ ان علماءکا ہے جو ان ہر دو احادیث میں تطبیق دینے کا قائل ہے۔
پہلی تطبیق یہ دی گئی ہے کہ حدیث زید میں ایسے شخص کی گواہی مراد ہے جسے کسی انسان کا حق معلوم ہے اور وہ انسان خود اس سے لاعلم ہے، پس وہ پہلے ہی جاکر اس صاحب حق کے حق میں گواہی دے کر اس کا حق ثابت کردیتا ہے۔
یا یہ کہ اس شہادت کا کوئی اور عالم زندہ نہ ہو پر وہ اس شہادت کے مستحقین ورثہ کو خود مطلع کردے اور گواہی دے کر ان کو معلوم کرادے۔
اس جواب کو اکثر علماءنے پسند کیا ہے۔
اور بھی کئی توجیہات کی گئی ہیں جو فتح الباری میں مذکور ہیں۔
پس بہتر یہی ہے کہ ایسے تعارضات کو مناسب تطبیق سے اٹھایا جائے نہ کہ کسی صحیح حدیث کا انکار کیا جائے۔
(1)
مطلب یہ ہے کہ ہر آنے والی نسل دین سے درجہ بہ درجہ دور ہوتی چلی جائے گی، چنانچہ دور حاضر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا دور اول سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
اس ظلم و ستم کے دور میں کوئی معقول شخص لوگوں کی بدکرداری کی وجہ سے کسی کو گواہ بنانے کے لیے تیار نہیں ہو گا لیکن بدکردار لوگ اپنی حیثیت منوانے کے لیے دوسروں کے معاملات میں ازخود دخل دیں گے۔
ایسے لوگوں پر موٹاپا آ جائے گا کیونکہ دولت کی ریل پیل ہو گی اور چربی کے نیچے ان کا ایمان اور ضمیر دب جائے گا۔
(2)
ان لوگوں سے گواہی اس لیے طلب نہیں کی جائے گی کہ وہ اسے صحیح طریقے پر ادا کرنے کے عادی نہیں ہوں گے۔
اس بنا پر ان کی گواہی ظلم کی گواہی ہو گی، نیز ان کا مقصد دولت اکٹھی کرنا ہو گا، خواہ وہ سچی گواہی سے حاصل ہو یا جھوٹی گواہی سے۔
جب سچی جھوٹی گواہی سے بے پروائی برتنے پر مذکورہ مذمت ہے تو جھوٹی گواہی تو انتہائی مذموم ہو گی۔
اگر کسی کی گواہی سے مظلوم کی مدد ہوتی ہو تو ایسی گواہی مطالبے کے بغیر دینا ضروری ہے۔
حدیث میں ایسی گواہی کی فضیلت آئی ہے۔
واضح رہے کہ طبعی موٹاپا قابل مذمت نہیں، البتہ حرام خوری کے نتیجے میں جو موٹاپا ظاہر ہو گا مذکورہ حدیث میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔
واللہ أعلم
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2221]
وضاحت:
1؎:
چونکہ یہ لوگ دین وایمان کی فکر سے خالی ہوں گے، کس کے سامنے جواب دہی کا کوئی خوف ان کے دلوں میں باقی نہیں رہے گا، اور عیش و آرام کی زندگی کی مستیاں لے رہے ہوں گے، اس لیے موٹاپا ان میں عام ہوگا۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں (یعنی صحابہ)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی اتباع تابعین) ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الشهادات/حدیث: 2302]
1؎:
اس سے صحابہ کرام کی فضیلت تابعین پر، اور تابعین کی فضیلت اتباع تابعین پر ثابت ہوتی ہے۔
2؎:
ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ لفظ دو یا تین بار دہرایا، اگر تین بار دہرایا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنا زمانہ مراد لیا، پھر صحابہ کا پھر تابعین کا، پھر اتباع تابعین کا، اور اگر آپ نے صرف دو بار فرمایا تو اس کا وہی مطلب ہے جو ترجمہ کے اندر قوسین میں واضح کیا گیا ہے۔
3؎:
اس حدیث سے از خود شہادت دینے کی مذمت ثابت ہوتی ہے، جب کہ حدیث نمبر2195سے اس کی مدح وتعریف ثابت ہے، تعارض اس طرح دفع ہو جاتا ہے کہ مذمت مطلقا اور ازخود شہادت پیش کرنے کی نہیں بلکہ جلدی سے ایسی شہادت دینے کی وجہ سے ہے جس سے جھوٹ ثابت کر سکیں اور باطل طریقہ سے کھا پی سکیں اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اسے ہضم کر سکیں، معلوم ہوا کہ حقوق کے تحفظ کے لیے دی گئی شہادت مقبول اور بہتر وعمدہ ہے جب کہ حقوق کو ہڑپ کر جانے کی نیت سے دی گئی شہادت قبیح اور بری ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں “ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں، ” پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4657]
1۔
اس صحیح حدیث میں صحابہ کرام تابعین عظام اور تبع تابعین کے ادوار کے متعلق اجمالی اور مجموعی طور پر بھلائی کی خبر دی گئی ہے۔
2۔
ان کے بعد وقار میں کمی ہوگی۔
دینداری میں ضعف آجائے گا اور آخرت کی فکر کم ہوجائے گی۔
3۔
اطباء کے قول کے مطابق آدمی کے جسم میں موٹاپا عام طور پر خوش خوراکی کے علاوہ بے فکری اور بے خوفی کی بناء پر آتا ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں “، مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ثم الذين يلونهم» کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین (امانت دار) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی ج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3840]
(2) ”گواہیاں دیں گے“ یعنی جھوٹی‘ تبھی تو ان سے گواہی نہیں لی جائے گی اور اگر زبردستی دیں گے تو مانی نہیں جائے گی۔
(3) ”موٹاپا عام ہوجائے گا“ یعنی اکثر لوگ موٹے ہوں گے اور موٹا ہونے کو پسند کریں گے بلکہ موٹا ہونے کی کوشش کریں گے‘ یعنی عیش پرست ہوں گے۔ سہل پسند ہوں گے۔ کھانے پینے اور سونے پر خوب زور دیں گے۔ پست ہمت ہوں گے۔ غرض ناکارہ بن جائیں گے کیونکہ موٹاپے کو یہ سب چیزیں لازم ہیں۔ آپ کا مقصود بھی یہی چیز بتانا ہے کہ نہ صرف موٹاپا۔ واللہ أعلم۔
(4) ”ابوحمزہ ہے“ امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ وضاحت اس لیے پیش کی تاکہ التباس کا خطرہ دور ہوجائے کیونکہ امام شعبہ رحمہ اللہ سات ایسے آدمیوں سے روایت کرتے ہیں جن کی کنیت ابوحمزہ ہے اور ایک ایسے آدمی بھی روایت کرتے ہیں جن کی کنیت ابوحمزہ ہے‘ اس سند میں یہی آدمی ہے‘ اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ نے وضاحت فرما دی ہے کہ یہ ان آدمیوں سے الگ شخص ہے جن کی کنیت ابوحمزہ ہے۔ اس کی کنیت ابوحمزہ ہے اور ناصر نصر بن عمران ہے۔ واللہ أعلم۔
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ میرا زمانہ تمہارے تمام زمانوں سے بہتر ہے۔ پھر اس کے بعد والا، پھر اس کے بعد والا، اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو گواہی دیں گے اور ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔ وہ خائن ہوں گے، امین نہیں ہوں گے۔ نذر مانیں گے مگر پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر و نمایاں ہو گا۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1202»
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب لايشهد علي شهادة جور إذا أشهد، حديث:2651، ومسلم، فضائل الصحابة، باب فضل الصحابة....، حديث:2535.»
تشریح: 1. یہ حدیث بظاہر پہلی حدیث کے معارض معلوم ہوتی ہے‘ اس لیے کہ اس حدیث سے ازخود شہادت دینے کی مذمت ہوتی ہے جبکہ پہلی حدیث میں اس کی مدح و تعریف کی گئی ہے۔
تعارض اس طرح ختم ہو جاتا ہے کہ مذمت مطلقاً ازخود شہادت پیش کرنے کی نہیں بلکہ جلدی سے ایسی شہادت دینے کی وجہ سے ہے جس سے جھوٹ ثابت کرنا‘ باطل طریقے سے کھا پی جانا اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا مقصود ہو۔
حدیث کے سیاق میں غور و تدبر کرنے والا شخص یہ واضح فرق معلوم کر سکتا ہے۔
2. ان دونوں احادیث کا خلاصہ یہ ہوا کہ طلب سے پہلے ازخود شہادت دینا بہتر اور عمدہ طریقہ ہے جبکہ یہ شہادت حقوق کے تحفظ کے لیے دی گئی ہو اور قبیح اس صورت میں ہے کہ جب حقوق کو ہڑپ کر جانے کی نیت سے دی جائے۔
3. اس حدیث میں بہترین زمانے کی نشاندہی ہے جس سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
4.یہ فضیلت جمہور علماء کے نقطۂ نظر سے فرداً فرداً بھی ہو سکتی ہے اور بحیثیت مجموعی بھی۔
لیکن اصحاب بدر اور اصحاب حدیبیہ ہر اعتبار سے افضل ہیں۔