صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ: باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین رحمها اللہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " ، لَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ : الْقَرْنَ ، فِي حَدِيثِهِ ، وقَالَ قُتَيْبَةُ : ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ .قتیبہ بن سعید اور ہناد بن سری نے کہا: ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے، انہوں نے عبیدہ سلیمانی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے بہترین اس دور کے لوگ ہیں جو میرے ساتھ ہیں (صحابہ)، پھر وہ ہیں جو ان کے ساتھ (کے دور میں) ہوں گے (تابعین)، پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دور میں) ہوں گے (تبع تابعین)، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہو گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے پہلے ہو گی۔“ ہناد نے اپنی حدیث میں قرن (دور) کا ذکر نہیں کیا۔ اور قتیبہ نے کہا: ”پھر ایسی اقوام آئیں گی۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَتَبْدُرُ يَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : كَانُوا يَنْهَوْنَنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ عَنِ الْعَهْدِ وَالشَّهَادَاتِ .عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا:لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟آپ نے فرمایا:"میرے دور کے لوگ پھر وہ جو ان کے ساتھ(کے دور میں) ہوں گے،پھر وہ جو ان کے ساتھ ہوں گے،پھر ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان کی شہادت ان کی قسم سے جلدی ہوگی اور ان کی قسم انکی شہادت سے جلدی ہوگی۔"ابراہیم(نخعی) نے کہا:جس وقت ہم کم عمر تھے(تو بڑی عمرکے) لوگ ہمیں قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَجَرِيرٍ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے ابواحوص اور جریر کی سند کے ساتھ انہی دونوں کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی، دونوں کی حدیث میں ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا“ (کے الفاظ) نہیں۔
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ ، قَالَ : ثُمَّ يَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " .حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:"بہترین لوگ میرے ساتھی ہیں،پھر جو ان سے ملے ہوں گے،پھر جو ان سے ملے ہوں گے،"مجھے معلوم نہیں ہے،آپ نے یہ تیسری دفعہ فرمایا،یاچوتھی دفعہ،"پھر ان کے بعد ناخلف لوگ نائب ہوں گے،ان کی شہادت قسم سے سبقت لے جائےگی اور ان کی قسم،شہادت سے پہلے ہوگی۔"
تشریح، فوائد و مسائل
آخری صحابی 110ھ تک زندہ رہا۔
جلدی میں کبھی پہلے قسم کھالیں گے پھر گواہی دیں گے پھر قسم کھائیں گے۔
اس لیے بزرگان سلف اپنے تلامذہ کو گواہی دینے اور قسم کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے بلکہ أشهد بااللہ یا علي عهداللہ جیسے کلمات منہ سے نکلانے سے بھی منع کرتے تھے تاکہ موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت نہ ہو جائے۔
(1)
اس عنوان کے متعلق اہل علم کے چار قول ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ میں گواہی دیتا ہوں یا قسم اٹھاتا ہوں یا میں عزم کرتا ہوں۔
یہ قسم کے الفاظ ہیں حانث ہونے کی صورت میں کفارہ دینا ہو گا۔
٭ صرف ’’میں گواہی دیتا ہوں۔
‘‘ کے الفاظ قسم کے لیے کافی نہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور قسم کا ارادہ کیا تو ایسا کہنا قسم ہے۔
٭ شہادت کے الفاظ قسم کے لیے کافی نہیں ہوں گے کیونکہ قسم اٹھانا اور گواہی دینا دونوں الگ الگ معاملات ہیں۔
٭ میں کعبے کو گواہ بناتا ہوں یا نبی کو گواہ کرتا ہوں، یہ الفاظ قسم نہیں ہوں گے۔
(عمدة القاري: 707/15) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شہادت کے الفاظ قسم کے لیے کافی نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے جو الفاظ بیان کیے ہیں کہ ان کی گواہی قسم سے اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت کرے گی، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم اور شہادت کے درمیان فرق ہے۔
ہاں، اگر ان الفاظ سے قسم کی نیت کی ہے تو یقیناً قسم ہی مراد ہو گی۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 662/11) (3)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب لوگ شریعت کی پابندی نہیں کریں گے اور انہیں شرعی ضوابط کا علم نہ ہو گا، اس لیے وہ گواہی کی جگہ قسم کھائیں گے اور قسم کی جگہ گواہی دیں گے۔
گواہی دے کر قسمیں کھائیں گے کبھی قسمیں پھر اس کے بعد گواہی دیں گے۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین زمانوں کو بہترین زمانہ قرار دیا ہے۔
واقعی یہ وقت خیر و برکت کا تھا۔
اس کے بعد عجیب و غریب بدعات نے سر نکالا۔
فلاسفہ پیدا ہوئے جو دین اسلام کو خود ساختہ عقل کے آئینے میں دیکھنے لگے۔
معتزلہ نے زبانیں کھولیں، پھر اہل علم کو فتنۂ خلق قرآن سے دوچار ہونا پڑا۔
حالات تبدیل ہو گئے۔
سنگین قسم کے اختلافات پیدا ہو گئے اور روز بروز احکام شریعت میں کمی ہونے لگی۔
(2)
دینی معاملات میں انحطاط اس قدر ہو گا کہ جھوٹی گواہی دینے یا جھوٹی قسم اٹھانے میں انہیں کوئی تردد نہیں ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔
جھوٹی گواہی دینے والوں کی کثرت ہے۔
ہمارے عدالتی نظام میں دولت کے بل بوتے پر ہر قسم کے گواہ دستیاب ہیں۔
امانتوں میں خیانت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔
قومی خزانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، پھر عہد و پیمان کر کے اسے توڑنے والوں کی بہتات ہے۔
ایسے لوگ ناجائز پیسہ حاصل کر کے جسمانی اعتبار سے موٹی موٹی توندوں والے بکثرت دیکھے جا سکتے ہیں، خاص طور پر محکمہ پولیس میں اعلیٰ افسران اس کی زندہ مثال ہیں۔
یہ لوگ موٹاپے کو پسند کرتے ہیں، اگرچہ طبعی طور پر موٹاپا مذموم نہیں لیکن فکر آخرت رکھنے والے انسان کو نہ تو موٹاپا آتا ہے اور نہ اس کی توند ہی بڑھتی ہے۔
واللہ المستعان
بغور دیکھا جائے تو آج عام اہل اسلام کا حال یہی ہے، إلا ماشاء اللہ۔
1۔
صحابہ کرام ؓ کی تین قسمیں ہیں:۔
مہاجرین،جنھوں نے دین کے لیے مصیبتیں برداشت کیں بالآخر وہ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔
۔
انصار،جنھوں نے مہاجرین کواپنے ہاں جگہ دی اور دین اسلام کے لیے مالی قربانی دی۔
۔
دیگر صحابہ کرام ؓ جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے۔
دین کے لیے انھیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
شرف صحابیت میں سب برابر ہیں،البتہ دیگر اعتبار سے مسلمان ہوئے۔
دین کے لیے انھیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
شرف صحابیت میں سب برابر ہیں،البتہ دیگر اعتبار سے ان میں ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔
2۔
حدیث میں سبقت سے مراد یہ ہے کہ دین سے بے پروائی کی وجہ سے ان میں حرص اور لالچ کا غلبہ ہوگا بس یہی ہوگا کہ کس سے ابتدا کریں شہادت سے یا قسم سے،گویا ان دونوں کی وجہ سے ایک دوڑ لگی ہوگی۔
اس کا مصداق دیکھنا ہوتو ہماری عدالتوں میں تیار شدہ گواہوں کو دیکھ لیا جائے۔
دولت کے لالچ میں وہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسم دینے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں،حالانکہ گواہی چشم دید واقعہ اور قسم یقینی امر کی ہوتی ہے لیکن انھیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
3۔
حضرت ابراہیم نخعی ؒ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے بزرگ ہمیں تادیباً مارتے تھے کہ ہم لوگ گواہی اور قسم کو اپنا معمول نہ بنائیں اور وہ ہمیں احتیاط کی روش اختیار کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔
موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت بہتر نہیں ہے قسم میں احتیاط لازمی ہے۔
(1)
حدیث میں بہترین زمانوں سے مراد صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ ہے۔
اس کے بعد مسلمان آفتاب نبوت سے جتنے دور ہوتے گئے اتنا اندھیرا چھاتا گیا۔
آخر کار ایسے تیز طرار لوگ پیدا ہوں گے کہ گواہی دینا اور قسم اٹھانا ان کا پیشہ ہو گا۔
وہ کبھی گواہی سے پہلے قسمیں اٹھائیں گے اور کبھی قسم سے پہلے گواہی دیں گے۔
اس کا سبب یہ ہو گا کہ وہ لوگ دینی احکام کی پرواہ نہیں کریں گے۔
(2)
حضرت ابراہیم نخعی ؒ کے زمانے میں گواہی کے متعلق بزرگوں کا اہتمام اس لیے تھا کہ گواہی سوچ سمجھ کر دی جائے اور اس سلسلے میں کسی پر زیادتی نہ کی جائے۔
بہرحال جھوٹی گواہی دینا اور جھوٹی قسم اٹھانا بہت مذموم حرکت ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۱؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ۲؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ۳؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی " ۴؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3859]
وضاحت:
1؎:
یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا زمانہ جو نبیﷺکے زمانہ میں تھے، ان کا عہد ایک قرن ہے، جو ایک ہجری کے ذرا سا بعد تک ممتد ہے، آخری صحابی (واثلہ بن اسقع) کا اور انس رضی اللہ عنہ کا انتقال110ھ میں ہوا تھا۔
2؎:
یعنی تابعین رحمہم اللہ۔
3؎:
یعنی: اتباع تابعین رحمہم اللہ ان کا زمانہ سسنہ 220ھ تک ممتد ہے (بعض علماء نے ان تین قرون سے:عہد صدیقی، عہد فاروقی اورعہد عثمانی مراد لیا ہے، کہ عہدعثمانی کے بعد فتنہ وفساد کا دور دورہ ہو گیا تھا، واللہ اعلم)
4؎:
یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے، یہ باتیں اتباع تابعین کے بعد عام طورسے مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میرے زمانہ والے، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2362]
فوائد و مسائل:
(1)
’قرن‘‘سےمراد ایک زمانے کےلوگ یعنی ایک نسل کےلوگ ہوتےہیں۔
یہاں قرن اول سےمراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی جماعت ان سےمتصل لوگوں سےمراد تابعین عظام اوران سے متصل لوگوں سے مراد تبع تابعین حضرات ہیں۔
(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امت کےافضل ترین افراد ہیں ادنی سےادنی درجےکا صحابی افضل ترین تابعی سےافضل ہے۔
(3)
صحابہ تابعین اورتبع تابعین کا مقام بعد کےتمام افراد سےبلند ہے۔
(4)
گواہی اورقسم بہت اہم اورنازک ذمے داری ہے۔
جھوٹی گواہی کی وجہ سے لوگوں کےفیصلے غلط ہوتے ہیں جن کی وجہ سے کسی کا حق دوسرے کومل جاتا ہے اورحق دارمحروم رہ جاتا ہے۔
اسی طرح جھوٹی قسم کی وجہ سے جھوٹ پراعتبار کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سی ناانصافیاں واقع ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ جھوٹی قسم کھانا اللہ کی شان میں گستاخی بھی ہے۔
(5)
قسم اورگواہی ایک دوسرے سےجلد آنے کا مطلب یہ ہےکہ انھیں اس کی اہمیت اورنزاکت کا احساس نہیں ہوگا، لہٰذا بلاتکلف سچی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، خاص طورپرگواہی دیتےوقت جھوٹی قسمیں کھانے میں باک محسوس نہیں کریں گے۔
یہ بہت بری عادت ہے۔