صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ: باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین رحمها اللہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يُخْبِرُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ " .عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر (بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو (یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟) لوگ کہیں گے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو (یعنی تبع تابعین میں سے)؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں۔ پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ ، فَيَقُولُونَ : انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي ، فَيَقُولُونَ : هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ ، فَيُقَالُ : انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ ، فَيُقَالُ : انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُوجَدُ الرَّجُلُ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ " .حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے:دیکھو،کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا،چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی،پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ(آپس میں) کہیں گے:کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس(شخص) کی بنا پر فتح حاصل ہوجائےگی،پھر تیسرا لشکر بھیجاجائے گا تو کہا جائے گا:دیکھو،کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟پھر چوتھا لشکر بھیجاجائے گاتو کہا جائے گا:دیکھو،کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی۔"
تشریح، فوائد و مسائل
فئام: جماعت، گروہ، یہ فام، (ٹکڑا، حصہ)
سے ماخوذ ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا، وہ صحابی ہے، دیکھنے کا لفظ عموم اور اکثریت کے اعتبار سے ہے، یہ معنی نہیں ہے کہ نابینا صحابی نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ بینا ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتا، اس لیے مراد یہ ہے، جس کو اسلام کی حالت میں کچھ وقت آپ کے ساتھ رہنے کی سعادت مل گئی اور اسلام پر فوت ہوا، وہ صحابی ہے، صحبت کسی وقت کی تحدید کی محتاج نہیں ہے، کچھ وقت کی رفاقت ہی برکت کا باعث بن جائے گی۔