مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2530
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً " .

سعد بن ابراہیم نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں ایک دوسرے کو حلیف بنانے کی ضرورت نہیں، جو شخص کا جاہلیت میں جو حلف تھا، اسلام نے اس کی مضبوطی میں اور اضافہ کیا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2530
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2294 | سنن ابي داود: 2925

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2294 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2294. حضرت عاصم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے عرض کیا: کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسلام میں عقدحلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟‘‘ تو انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش اور انصار میں عہدو پیمان میرے اپنے گھرمیں کرایا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2294]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ عہد و پیمان اگر حق اور انصاف اور عدل کی بنا پر ہو تو وہ مذموم نہیں ہے بلکہ ضروری ہے مگر اس عہد وپمان میں صرف باہمی مدد و خیر خواہی مد نظر ہوگی۔
اور ترکہ کا ایسے بھائی چارہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا کہ وہ وارثوں کا حق ہے۔
یہ امردیگر ہے کہ ایسے مواقع پر حسب قائدہ شرعی مرنے والے کو وصیت کا حق حاصل ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2294 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2294 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2294. حضرت عاصم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے عرض کیا: کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسلام میں عقدحلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟‘‘ تو انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش اور انصار میں عہدو پیمان میرے اپنے گھرمیں کرایا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2294]
حدیث حاشیہ:
دور جاہلیت میں عقد حلف کسی دشمن سے لڑنے اور اس پر حملہ کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
اسلام میں اس طرح کے عہدوپیمان کی کوئی گنجائش نہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کو حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے بیان کیا ہے۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6465(2530)
چونکہ راوی نے عقد حلف کی ممانعت کا موقع ومحل متعین نہیں کیا تھا،اس طرح ہر قسم کا حتمی معاہدہ غلط قرار پاتا تھا، اس لیے حضرت انس ؓ نے وضاحت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ ہمارے گھر کرایا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ نیک مقاصد اور نصرت حق کے لیے اب بھی ہوسکتا ہے۔
البتہ جاہلیت کے اطوار کہ تیراخون ہمارا خون، جس سے تم لڑو گے اس سے ہم لڑیں گے وغیرہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس میں حق اور ناحق کی تمیز نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے ہاں معاہدات کی بنیاد قبائلی عصیبت پر ہوتی تھی۔
والله أعلم.
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2294 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2925 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قول و قرار پر قسمیں کھانے اور حلف اٹھانے کا بیان۔`
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ کفر کی) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں (بھلے کام کے لیے) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2925]
فوائد ومسائل:
اسلام نے اپنے معتقدین کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا ہے۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
(إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ) (الحجرات:10) مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
چنانچہ واجب ہے کہ یہ ایک جان اور ایک جسم بن کر رہیں۔
انہیں اب کوئی ضرورت نہیں کہ قبل از اسلام کے انداز میں مصنوعی معاہدے کرتے پھریں۔
بلکہ یہ چیز ان کے عقیدے اور عمل کا بنیادی عنصر ہے۔
بہرحال جو معاہدات اس سے پہلے ہوچکے ہیں۔
اسلام انہیں خیر وصلاح کی بنیاد پر اور مظبوط بناتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2925 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔