حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : " بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ : بِالسِّوَاكِ " .

مقدام بن شریح رحمہ اللہ اپنے باپ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے، تو سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ”سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرماتے تھے۔“

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ، بَدَأَ بِالسِّوَاكِ " .

سفیان نے مقدام بن شریح سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 253
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) فى الطهارة، باب: فى الرجل يستاك بسواك غيره برقم (51) والنسائي في ((المجتبى)) 13/1 فى الطهارة، باب: السواك في كل حين - وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: السواك برقم (290) انظر ((التحفة)) برقم (16144)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 51 | صحيح مسلم: 253 | سنن ابن ماجه: 290 | سنن نسائي: 8

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 51 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´راہ چلتے، گھومتے پھرتے مسواک`
«. . . رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے؟ فرمایا: مسواک سے . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 51]
فوائد و مسائل:
راہ چلتے، گھومتے پھرتے مسواک کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں سے نہ تھا جیسے کہ آج کل لوگوں میں دیکھا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 51 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 290 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مسواک کا بیان۔`
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں آپ کے پاس جاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جب بھی آتے تھے پہلے مسواک کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 290]
اردو حاشہ: (1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺنماز کے اوقات کے علاوہ بھی مسواک کا اہتمام فرماتے تھے۔

(2)
بعض فقہاء نے کچھ ایسی شرائط لگائی ہیں جو کسی دلیل سے ثابت نہیں، مثلاً مسواک کا ایک بالشت ہونا یا پانی کے بغیر مسواک نہ کرنا وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 290 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 8 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر وقت مسواک کرنے کا بیان۔`
شریح کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے؟ انہوں نے کہا: مسواک سے (پہل کرتے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
8۔ اردو حاشیہ: ➊ یہ باب پچھلے باب کا تسلسل بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جب بھی گھر تشریف لاتے، مسواک کرتے۔ ظاہر ہے آپ اکثر روزہ دار ہوتے تھے، لہٰذا روزہ دار ہر وقت مسواک کر سکتا ہے۔
➋ ’’ہر وقت میں" عرفی استغراق (عموم) ہے نہ کہ حقیقی۔ ورنہ بہت سے اوقات عقلاً و شرعاً مستثنیٰ ہیں، مثلاً: نماز و قرأت کے درمیان، کھانا کھاتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے اور قضائے حاجت وغیرہ کے دوران میں وغیرہ۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 8 سے ماخوذ ہے۔