صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ: باب: قریشی عورتوں کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ " ، قَالَ أَحَدُهُمَا : صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، وقَالَ الْآخَرُ : نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بہترین عورتیں،جو اونٹوں پر سواری کرتی ہیں،وہ قریش کی پارساعورتیں ہیں،یا قریشی عورتیں ہیں،جو یتیم پر بچپن میں بہت شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے ہاتھ کی چیزوں کی بہت حفاظت کرتی ہیں۔"
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَرْعَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَلَمْ يَقُلْ يَتِيمٍ .عمرو ناقد نے کہا: ہمیں سفیان نے ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے (آپ سے روایت کرتے تھے۔) اس (سابقہ روایت) کے مانند، اور ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی جو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، مگر انہوں نے اس طرح کہا: ”وہ اپنے بچے کی اس کی کم سنی میں سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والی ہوتی ہیں۔“ انہوں نے ”یتیم (پر)“ نہیں کہا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ ، أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " ، قَالَ : يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ ، وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ .یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”قریش کی عورتیں اونٹوں پر سواری کرنے والی تمام عورتوں میں سب سے اچھی ہیں، بچے پر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں اور اپنے خاوند کے لیے اس کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں۔“ (سعید بن مسیب نے) کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد کہا کرتے تھے: مریم بنت عمران علیہ السلام اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ .معمر نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھجوایا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں اور میرے بہت سے بچے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اونٹوں پر) سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین۔۔۔“ پھر یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر یوں کیا: ”اس کی کم سنی میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .معمر نے ابن طاوس سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، نیز معمر نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں پر سفر کرنے والی عورتوں میں سے بہترین، قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچے پر اس کی کم سنی میں زیادہ شفقت کرنے والی ہوتی ہیں اور اپنے خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔“
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، هَذَا سَوَاءً .سہیل (بن ابی صالح) نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معمر کی حدیث کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
خير نساء ركبن الابل: اونٹ سوار عورتوں میں سب سے بہتر، یعنی عرب عورتوں میں سب سے بہتر، کیونکہ عربی عورتیں ہی اونٹ پر سواری کرتی تھیں، گویا، اپنے دور میں سب سے بہتر قریش کی باصلاحیت عورتیں تھیں، اس لیے مریم علیہا السلام کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس دور میں تھی ہی نہیں اور اس فضیلت و خیریت کی سبب دو خوبیاں ہیں: (1)
احناه علي يتيم، جو بچہ پر بچپن میں انتہائی شفقت کرتی ہیں، حتی کہ اگر بیوہ ہو جائیں تو اولاد کی خاطر، نئی شادی کرنے سے گریز کرتی ہیں، تاکہ ان کی پرورش و پرداخت یکسوئی سے کر سکیں۔
(2)
ارعاه علي زوج في ذات يده: خاوند کی ہاتھ کی چیز یعنی اس کے مال و دولت کی خوب حفاظت کرتی ہیں، اسراف و تبذیر یا فضول خرچی سے اس کو ضائع نہیں کرتیں، ظاہر ہے، جب وہ مال و دولت کی حفاظت کرتی ہیں تو اس کی عزت و ناموس جو انمول شئی ہے، اس کی بالاولیٰ حفاظت کریں گی۔