صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ وَأَسْلَمَ وُجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَتَمِيمٍ وَدَوْسٍ وَطَيِّئٍ: باب: قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لِي : " إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .عدی بن حاتم سے روایت ہے، کہا: میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: سب سے پہلا صدقہ (باقاعدہ وصول شدہ زکاۃ) جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہروں کو روشن کر دیا تھا بنو طے کا صدقہ تھا، جس کو آپ (عدی رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تھے۔