حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ ، وَغِفَارَ ، وَمُزَيْنَةَ ، وَأَحْسِبُ ، جُهَيْنَةَ ، مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَحْسِبُ ، جُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرٍ ، وَأَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، أَخَابُوا وَخَسِرُوا ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ " ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ .

عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، کہ حضرت اقرع بن حابس (تمیمی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ سے حاجیوں کا سامان چرا نے والے (قبائل)اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ (کابھی نام لیا)۔۔۔محمد (بن یعقوب) ہیں جنھیں شک ہوا۔نے بیعت کر لی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"تمھا را کیا خیال ہے کہ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے(آپ نے فر یا)جہینہ بنو تمیم،بنو عامر بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ (قبیلے لوگوں کی نظر میں مرتبے کے اعتبار سے)ناکام ہو جا ئیں گے،خسارے میں رہیں گے؟"اس نے کہا: جی ہاں۔آپ نے فر یا:" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ ان سے بہت بہتر ہیں ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ شک کا اظہار محمد نے کیا۔

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : وَجُهَيْنَةُ ، وَلَمْ يَقُلْ : أَحْسِبُ .

عبدالصمد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے بنو تمیم کے سردار محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب ضبی نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی اور انہوں نے صرف جہینہ کہا: ”میرا خیال ہے“ (کا جملہ) نہیں کہا۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَمِنْ بَنِي عَامِرٍ ، وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ " .

نصر بن علی جہضمی کے والد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ بنو تمیم، بنو عامر اور دو حلیف قبیلوں بنو اسد اور بنو غطفان سے بہتر ہیں۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

عبدالصمد اور شبابہ بن سوار نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ، قَالَ : فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ " .

عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"تم لوگ کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ،اسلم اور غفار بنو تمیم،بنو عبداللہ بن غطفان اور عامر بن صعصہ سے بہتر ہوں۔"اور (پوچھتے ہو ئے) آپ نے آواز بلند کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر وہ (لوگوں کے نزدیک اپنی عزت بڑھانے میں) ناکام ہوں گے اورکم مرتبہ ہو جائیں گے۔آپ نے فر یا:"بے شک وہ ان سے بہتر ہیں۔"ابو کریب کی روایت میں ہے:"تم کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار قبائل۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2522
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، کہ حضرت اقرع بن حابس (تمیمی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ سے حاجیوں کا سامان چرا نے والے (قبائل)اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ (کابھی نام لیا)۔۔۔محمد (بن یعقوب) ہیں جنھیں شک ہوا۔نے بیعت کر لی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"تمھا را کیا خیال ہے کہ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے(آپ نے فر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6444]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: غفار کے لوگ جاہلیت کے دور میں رہزن اور ڈاکو تھے اور ممکن ہے دوسرے قبائل کے کچھ لوگوں نے بھی حاجیوں کی راہ ماری ہو، یا ان کی چوری کی ہو، لیکن اسلام لانے کے بعد انہوں نے یہ حرکت نہیں کی، اس لیے اسلام میں پیش قدمی کی بنا پر، ان کو پہلا مقام مل گیا اور جو قبائل معزز سمجھے جاتے تھے، وہ اسلام لانے میں پیچھے رہ گئے، اس لیے ان کا مقام گھٹ گیا، حضرت اقرع بن حابس بنو تمیم سے تھے، جنگ یرموک میں اپنے دس بیٹوں کے ساتھ شہید ہوئے۔
محمد سے مراد سند میں راوی محمد بن ابی یعقوب ہے محمد بن جعفر نہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2522 سے ماخوذ ہے۔