حدیث نمبر: 2513
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عَرْعَرَةَ ، وَاللَّفْظُ لِلْجَهْضَمِيِّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَ يَخْدُمُنِي ، فَقُلْتُ لَهُ : لَا تَفْعَلْ ، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْأَنْصَارَ تَصْنَعُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، آلَيْتُ أَنْ لَا أَصْحَبَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا خَدَمْتُهُ " ، زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِمَا ، وَكَانَ جَرِيرٌ أَكْبَرَ مِنْ أَنَسٍ ، وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ أَسَنَّ مِنْ أَنَسٍ .

نصر بن علی جہضمی، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ابن عرعرہ سے روایت کی۔ الفاظ جہضمی کے ہیں۔ انہوں نے کہا: مجھے عرعرہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے یونس بن عبید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ثابت بنانی سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کے لیے نکلا، وہ (اس سفر میں) میری خدمت کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: ایسا نہ کریں، انہوں نے کہا کہ میں نے (جب) انصار کو دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (خدمت و تواضع) کا سلوک کرتے ہیں تو میں نے قسم کھائی کہ میں جب بھی کسی انصاری کے ساتھ ہوں گا تو اس کی خدمت کروں گا۔ ابن مثنیٰ اور ابن بشار نے اپنی اپنی حدیث میں مزید یہ بیان کیا، (ابن مثنیٰ نے کہا) حضرت جریر رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے، ابن بشار نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عمر میں زیادہ تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2513
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں ایک سفر میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں نکلا اور وہ میری خدمت کرتے تھے،میں نے ان سے کہا،ایسا نہ کیجئے تو انہوں نے جواب دیا،میں نے انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کام(محبت وخدمت کرتے)دیکھا ہے،(اس لیے میں نے) قسم اُٹھائی ہے کہ میں ان میں سے جس کابھی رفیق سفر بنوں گا،اس کی خدمت کروں گا۔"ابن بشار کہتے ہیں،حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےعمر رسیدہ تھے،ایک روایت میں ہے،جریر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6428]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، جو انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے اور آپ کے طریقہ کو اپناتا ہے، وہ قابل تعظیم ہے، صحابہ کرام انصار کی اس لیے تعظیم کرتے تھے کہ وہ آپ سے محبت کرتے تھے، وہ آپ کے خدمت گزار تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2513 سے ماخوذ ہے۔