حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .

ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرا پوٹا ہیں (جہاں پرندوں کی غذا محفوظ رہتی ہے) اور میرا قیمتی چیزیں رکھنے کا صندوق (اثاثہ) ہیں۔ لوگ بڑھتے جائیں گے اور یہ کم ہوتے جائیں گے۔ ان میں سے جو اچھا کام کرے اسے قبول کرو اور جو غلط کرے اس سے درگزر کرو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2510
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"انصار میرامعدہ اور خاص زنبیل ہیں اورلوگوں کی تعداد بڑھتی رہے گی اور یہ کم ہوتے جائیں گے،تم ان کے نیک لوگوں کے رویہ کوقبول کرنا اورگناہ گاروں کے رویہ سے درگزر کرنا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6420]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
كرش: معدہ جہاں غذا ٹھہرتی ہے، یعنی یہ میرے معتمد لوگ ہیں اور مخصوص ساتھی ہیں، (2)
عيبتي: وہ برتن یا گھٹڑی، جس میں انسان اپنی قیمتی اشیاء کو سنبھالتا ہے، یعنی یہ میرے رازداں ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2510 سے ماخوذ ہے۔