صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ: باب: انصار کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2508
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ " .عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (انصار کے) کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”میرا اللہ! (گواہ ہے) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ میرا اللہ! (گواہ ہے) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“ آپ کی مراد انصار سے تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہوگئے اور فرمایا:"اللہ گواہ ہے،تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو،اللہ گواہ ہے،تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔"آپ کی مراد انصارتھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6417]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ممثلا: سیدھے ہو کر۔
ممثلا: سیدھے ہو کر۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2508 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3785 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3785. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کچھ عورتیں اور بچے کسی شادی سے آتے ہوئے دیکھے تو آپ ان کے سامنے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ’’تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘ آپ نے یہ کلمات تین دفعہ دہرائے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3785]
حدیث حاشیہ:
1۔
انصار سے محبت کے جذبات کا اظہار مجموعی اعتبار سے ہے۔
یہ کسی سے انفرادی محبت کے خلاف نہیں ہے جیسا کہ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ تمام لوگوں سے زیادہ آپ کو محبوب کون ہے؟ تو آپ نے حضرت ابو بکرؓ کا نام لیا تھا لہٰذا انصار کے متعلق آپ کا مذکورہ ارشاد غیر انصار سے محبت کرنے کے خلاف نہیں۔
(فتح الباري: 144/7)
ایک روایت میں ہے کہ آپ ان پر احسان کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5180)
1۔
انصار سے محبت کے جذبات کا اظہار مجموعی اعتبار سے ہے۔
یہ کسی سے انفرادی محبت کے خلاف نہیں ہے جیسا کہ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ تمام لوگوں سے زیادہ آپ کو محبوب کون ہے؟ تو آپ نے حضرت ابو بکرؓ کا نام لیا تھا لہٰذا انصار کے متعلق آپ کا مذکورہ ارشاد غیر انصار سے محبت کرنے کے خلاف نہیں۔
(فتح الباري: 144/7)
ایک روایت میں ہے کہ آپ ان پر احسان کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5180)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3785 سے ماخوذ ہے۔