صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ: باب: انصار کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2507
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لِلْأَنْصَارِ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ ، وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ ، لَا أَشُكُّ فِيهِ .عکرمہ بن عمار نے کہا: ہمیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی، کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ (اسحاق نے) کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”اور انصار کی اولاد کی اور انصار کے ساتھ نسبت رکھنے والوں کی بھی (مغفرت فرما۔)“ مجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4906 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4906. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: حرہ کے روز جو لوگ شہید کر دیے گئے، ان کے متعلق مجھے بہت غم ہوا۔ حضرت زید بن ارقم ؓ کو جب میرے غمزدہ ہونے کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے تعزیت و تسلی کے طور پر مجھے ایک خط لکھا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے: ’’اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں کی بھی مغفرت فرما۔‘‘ (راوی حدیث) حضرت عبداللہ بن فضل کو شک تھا کہ آپ ﷺ نے انصار کے پوتوں کا بھی ذکر کیا تھا یا نہیں۔ اس مجلس کے حاضرین میں سے کسی نے حضرت انس ؓ سے پوچھا (حضرت زید بن ارقم ؓ کون ہیں؟) تو انہوں نے جواب دیا: یہ وہی ہیں جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ’’یہ وہی صاحب ہیں جن کے کان سے سنی ہوئی خبر کی اللہ تعالٰی نے تصدیق کی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4906]
حدیث حاشیہ: حرہ مدینہ کا ایک میدان ہے، 63ھ میں جہاں پر یزیدیوں نے پڑاؤ کیا جب کہ مدینہ منورہ کے لوگوں نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔
اس نے ایک فوج بھیجی جس نے مدینہ منورہ پہنچ کر وہاں قتل عام کیا۔
انصار کی ایک بہت بڑی تعداد اس حادثہ میں شہید ہو گئی تھی۔
حضرت انس ان دونوں بصرہ میں تھے جب ان کو اس کی خبر ملی تو بہت رنجیدہ ہوئے۔
حضرت زید بن ارقم کی تصدیق سے مراد یہی ہے کہ اللہ پاک نے منافقوں کے خلاف بیان دینے میں ان کی تصدیق کے لئے سورۃ منافقون نازل فرمائی تھی۔
اس نے ایک فوج بھیجی جس نے مدینہ منورہ پہنچ کر وہاں قتل عام کیا۔
انصار کی ایک بہت بڑی تعداد اس حادثہ میں شہید ہو گئی تھی۔
حضرت انس ان دونوں بصرہ میں تھے جب ان کو اس کی خبر ملی تو بہت رنجیدہ ہوئے۔
حضرت زید بن ارقم کی تصدیق سے مراد یہی ہے کہ اللہ پاک نے منافقوں کے خلاف بیان دینے میں ان کی تصدیق کے لئے سورۃ منافقون نازل فرمائی تھی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4906 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4906 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4906. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: حرہ کے روز جو لوگ شہید کر دیے گئے، ان کے متعلق مجھے بہت غم ہوا۔ حضرت زید بن ارقم ؓ کو جب میرے غمزدہ ہونے کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے تعزیت و تسلی کے طور پر مجھے ایک خط لکھا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے: ’’اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں کی بھی مغفرت فرما۔‘‘ (راوی حدیث) حضرت عبداللہ بن فضل کو شک تھا کہ آپ ﷺ نے انصار کے پوتوں کا بھی ذکر کیا تھا یا نہیں۔ اس مجلس کے حاضرین میں سے کسی نے حضرت انس ؓ سے پوچھا (حضرت زید بن ارقم ؓ کون ہیں؟) تو انہوں نے جواب دیا: یہ وہی ہیں جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ’’یہ وہی صاحب ہیں جن کے کان سے سنی ہوئی خبر کی اللہ تعالٰی نے تصدیق کی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4906]
حدیث حاشیہ:
1۔
حرّہ، مدینہ طیبہ کے آس پاس کے ایک علاقے کا نام ہے۔
اس کے میدان میں سیاہ پتھر پڑے ہیں۔
جب اہل مدینہ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا تو وہاں قتل وغارت کا بازار گرم ہوا۔
یہ تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے لیکن اس کے متعلق مورخین نے بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔
2۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرے میں تھے۔
انھیں اس واقعے کا بہت دکھ ہوا تو انھیں تسلی دینے کے لیے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفے سے خط لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے: جو لوگ اللہ کی طرف سے مغفرت یافتہ ہیں، ان پر زیادہ غم نہیں کرنا چاہیے۔
ایک روایت میں انصار کے پوتوں کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے مغفرت کا ذکر ہے۔
(مسند أحمد: 139/3)
3۔
اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس کے آخر میں منافقین اور مذکورہ آیت کے نزول واقعہ کی طرف واضح اشارہ ہے۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی واقعہ پچھلے صفحات میں تفصیل سے بیان ہوا ہے جس میں منافقین اور ان کے کردار کا واضح تذکرہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کسی مصلحت کے پیش نظر کوئی سزا نہ دی، حالانکہ یہ لوگ قتل کے حقدار تھے۔
اس کی وضاحت ہم آئندہ حدیث کے فوائد میں کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
1۔
حرّہ، مدینہ طیبہ کے آس پاس کے ایک علاقے کا نام ہے۔
اس کے میدان میں سیاہ پتھر پڑے ہیں۔
جب اہل مدینہ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا تو وہاں قتل وغارت کا بازار گرم ہوا۔
یہ تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے لیکن اس کے متعلق مورخین نے بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔
2۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرے میں تھے۔
انھیں اس واقعے کا بہت دکھ ہوا تو انھیں تسلی دینے کے لیے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفے سے خط لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے: جو لوگ اللہ کی طرف سے مغفرت یافتہ ہیں، ان پر زیادہ غم نہیں کرنا چاہیے۔
ایک روایت میں انصار کے پوتوں کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے مغفرت کا ذکر ہے۔
(مسند أحمد: 139/3)
3۔
اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس کے آخر میں منافقین اور مذکورہ آیت کے نزول واقعہ کی طرف واضح اشارہ ہے۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی واقعہ پچھلے صفحات میں تفصیل سے بیان ہوا ہے جس میں منافقین اور ان کے کردار کا واضح تذکرہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کسی مصلحت کے پیش نظر کوئی سزا نہ دی، حالانکہ یہ لوگ قتل کے حقدار تھے۔
اس کی وضاحت ہم آئندہ حدیث کے فوائد میں کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4906 سے ماخوذ ہے۔