حدیث نمبر: 2506
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " .

محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نضر بن انس سے، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فرما!“

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2506
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3902

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3902 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انصار اور قریش کے فضائل کا بیان`
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے (اس خط میں) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3902]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’حرّہ کادن‘‘ اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ 63ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت وتاراج کیا تھا، اس میں بہت سے صحابہ وتابعین کی جانیں چلی گئی تھیں، یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی، (عفااللہ عنہ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ ’’حرّہ‘‘میں ہوا تھا اس لیے اس کا نام ’’یوم الحرّۃ‘‘ پڑ گیا۔

2؎:
یعنی: اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبیﷺکی دعا کی برکت شامل ہے، اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے، ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3902 سے ماخوذ ہے۔