حدیث نمبر: 2505
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " فِينَا نَزَلَتْ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122 بَنُو سَلِمَةَ ، وَبَنُو حَارِثَةَ ، وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122 " .

عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی: ”جب تم میں سے دو جماعتوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا اور اللہ ان دونوں کا مددگار تھا“، یہ آیت بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہوئی (اس کے اندر) اللہ کے اس فرمان: ”اللہ ان دونوں (جماعتوں) کا مددگار تھا“ کی بنا پر ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2505
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے،"جب تم میں سے دو گروہوں نے بزدلی کاارادہ کیا،حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا،یعنی بنوسلمہ اور بنو حارثہ اور ہم یہ نہیں چاہتے تھے،یہ آیت نہ اتاری جاتی،کیونکہ اللہ بزرگ وبرتر کافرمان ہے،اللہ ان کاحمایتی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6413]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ آیت انصار کے دو قبائل بنو سلمہ، جو حضرت جابر کا خزرجی قبیلہ ہے اور بنو حارثہ جو اوس خاندان ہے کے بارے میں اس وقت اتری، جبکہ انہوں نے دیکھا، عبداللہ بن ابی، اپنی جماعت کے ساتھ مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی تعداد کم ہو گئی ہے تو ان کے اندر کوتاہ ہمتی پیدا ہونے لگی، لیکن اللہ نے ان کے پاؤں جما دئیے، یہ غزوہ اُحد کا واقعہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2505 سے ماخوذ ہے۔