صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلاَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ: باب: سلمان فارسی اور بلال اور صہیب رضوان اللہ عنہم کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو : " أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ ، وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ : لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ ، فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ ؟ قَالُوا : لَا ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَخِي " .معاویہ بن قرہ نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلیمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں۔ کہا: اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے۔ اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کر دیا؟ انہوں نے کہا: نہیں بھائی! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔