مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2503
قَالَ : فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً ، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ ، وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ : أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ؟ قَالَ عُمَرُ : الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ ؟ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : نَعَمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ ، فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً : كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلَّا وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَوَاللَّهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ، قَالَتْ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى ، وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُ وَبُرْدَةَ : فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى ، وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي .

کہا: (تو ایسا ہوا کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی بیوی) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو ہمارے ساتھ آئے تھے۔ ملنے کے لیے ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں۔ وہ بھی نجاشی کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے گئی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ان کے پاس موجود تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسماء رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ اسماء بنت عمیس ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ جو حبشہ کے ملک میں گئی تھیں اور اب سمندر کا سفر کر کے آئی ہیں؟ اسماء رضی اللہ عنہا بولیں: جی ہاں، میں وہی ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تم سے زیادہ ہمارا حق ہے۔ یہ سن کر انہیں غصہ آ گیا اور کہنے لگیں: ”اے عمر! اللہ کی قسم ہرگز نہیں، تم نے جھوٹ کہا۔ تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تم میں سے بھوکے کو کھانا کھلاتے اور تمہارے جاہل کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایک دور دراز دشمنوں کی زمین حبشہ میں تھے، اور ہماری یہ سب تکالیف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں تھیں۔ اللہ کی قسم! مجھ پر اس وقت تک کھانا پینا حرام ہے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری بات کا ذکر نہ کر لوں اور ہم کو ایذا دی جاتی تھی اور ہمیں ہر وقت خوف رہتا تھا۔ عنقریب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کروں گی، ان سے پوچھوں گی اور اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی، نہ میں کجروی کروں گی اور نہ میں اس سے زیادہ کہوں گی۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے زیادہ کسی کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ عمر (رضی اللہ عنہ) اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم کشتی والوں کی تو دو ہجرتیں ہوئیں (ایک مکہ سے حبشہ کو اور دوسری حبشہ سے مدینہ طیبہ کو)۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوموسیٰ اور کشتی والوں کو دیکھا کہ وہ گروہ در گروہ میرے پاس آتے اور اس حدیث کو سنتے تھے۔ اور دنیا میں کوئی چیز ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے زیادہ خوشی کی نہ تھی نہ اتنی بڑی تھی۔ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مجھ سے اس حدیث کو (خوشی کے لیے) بار بار سننا چاہتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2503
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں،حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ہمارے ساتھ آنے والوں میں سے تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ملاقات کے لیے گئیں،چونکہ وہ بھی نجاشی کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں تو سیدنا عمر ؓ ام المؤمنین حفصہ ؓ کے پاس آئے اور سیدہ اسماء بنت عمیس ؓ ان کے پاس موجود تھیں۔ سیدنا عمر ؓ نے اسماء ؓ کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ام المؤمنین حفصہ ؓ نے جواب دیا کہ یہ اسماء بنت عمیس ہے۔ تو انہوں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6411]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اسهم لنا: جنگ خیبر کے شرکاء کی رضا مندی سے اہل سفینہ کو برابر کا حصہ دار قرار دیا گیا تھا، ان کے سوا کسی اور غیر حاضر کو حصہ نہیں ملا تھا۔
(2)
ارض البعد البغضاء: غیر رشتہ داروں کی اور کافروں کی زمین تھی، (3)
ارسال: گروہ در گروہ، ٹولیاں ٹولیاں، کیونکہ اہل مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والوں نے صرف ایک ہجرت کی اور اہل مکہ جو حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے، وہاں سے مدینہ کی طرف آنے والوں کی ہجرت دوہری ہوئی، اس پر یہ لوگ بہت شاداں و فرحاں تھے اور حضرت اسماء سے آپ کی یہ بات براہ راست سننے کے لیے ان کی خدمت میں شوق و ذوق سے ٹولیاں، ٹولیاں بن کر آتے اور مزے لے لے کر آپ کا فرمان سنتے، گویا، دونوں جہانوں کی دولت انہیں میسر آ گئی اور یہ حضرت اسماء بنت عمیس، حضرت جعفر بن ابی طالب کی زوجہ محترمہ تھیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2503 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔