حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ " .

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اشعری لوگ جب جنگ کے موقعہ پر محتاج ہوجاتے ہیں یامدینہ میں ان کے اہل وعیال کا کھانا کم پڑجاتاہے تو سب کے پاس جو کچھ ہوتا ہے،اس کپڑے میں اکٹھا کرلیتے ہیں،پھر ایک برتن سےباہمی برابر بانٹ لیتے ہیں،سو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2500
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2486

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اشعری لوگ جب جنگ کے موقعہ پر محتاج ہوجاتے ہیں یامدینہ میں ان کے اہل وعیال کا کھانا کم پڑجاتاہے تو سب کے پاس جو کچھ ہوتا ہے،اس کپڑے میں اکٹھا کرلیتے ہیں،پھر ایک برتن سےباہمی برابر بانٹ لیتے ہیں،سو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6408]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
ارملو في الغزو: جنگ میں ان کا کھانا ختم ہو جاتا ہے۔
(2)
فهم مني وانا منهم: میرا اور ان کا طریقہ یا طرز عمل یکساں ہیں، وہ میرے نقش قدم پر چلتے ہیں، ان میں ہمدردی اور ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اس لئے وہ مل جل کر کھاتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا، انسان بطور تحدیث نعمت یا جذبۂ شکر کے تحت اپنے فضائل و مناقب کا دوسروں کے سامنے اظہار کر سکتا ہے، کیونکہ ان دونوں حدیثوں کا راوی حضرت ابو موسیٰ اشعری ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6408 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2486 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2486. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب اشعری لوگ جہاد میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کے پاس کھانا کم رہ جاتا ہے تو سب لوگ اپنااپنا موجودہ سامان ملا کر ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں۔ پھر آپس میں ایک پیمانے سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں (اس عدل و مساوات کی وجہ سے) وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2486]
حدیث حاشیہ: یعنی وہ خاص میرے طریق اور میری سنت پر ہیں۔
اور میں ان کے طریق پر ہوں۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ سفر یاحضر میں توشوں کا ملا لینا اور برابر برابر بانٹ لینا مستحب ہے۔
باب کی حدیث سے مطابقت ظاہر ہے: و مطابقته للترجمة تؤخذ من قوله جمعوا ما کان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموہ بینهم (عمدة القاري)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2486 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2486 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2486. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب اشعری لوگ جہاد میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کے پاس کھانا کم رہ جاتا ہے تو سب لوگ اپنااپنا موجودہ سامان ملا کر ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں۔ پھر آپس میں ایک پیمانے سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں (اس عدل و مساوات کی وجہ سے) وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2486]
حدیث حاشیہ:
کھانے کے سامان کو اکٹھا کر کے اندازے سے تقسیم کرنا سفر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ عمل حضر میں بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اشعری قبیلے کے لوگوں کا عمل بیان ہوا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت جو کچھ بھی سامان خور و نوش ان کے پاس ہوتا اسے ملا کر برابر تقسیم کر لیتے۔
یہ شراکت کی بہترین قسم ہے۔
مشکل وقت میں ایسا کیا جا سکتا ہے اور اس میں کمی بیشی کا خیال نہیں رکھا جائے گا کہ ایک نے کم سامان جمع کیا تھا اور تقسیم میں اسے زیادہ مل گیا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2486 سے ماخوذ ہے۔