صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ: باب: جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا وہاں تک زیور پہنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 250
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : " كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، فَكَانَ يَمُدُّ يَدَهُ حَتَّى تَبْلُغَ إِبْطَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ ؟ فَقَالَ : يَا بَنِي فَرُّوخَ ، أَنْتُمْ هَاهُنَا ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ ، سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ ، حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ " .ابوحازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے، یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا، میں نے ان سے پوچھا: اے ابوہریرہ ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اے فروخ کی اولاد (اے بنی فارس)! تم یہاں ہو؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا۔ میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”مومن کا زیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابو حازم بیان کرتے ہیں: کہ میں ابو ہریرہ ؓ کے پیچھے کھڑا تھا، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، تو وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر بغلوں تک دھوتے تھے، تو میں نے ان سے پوچھا: اے ابو ہریرہ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: اے فروخ کے بیٹے! تم یہاں ہو؟ اگر مجھے یہ پتا ہوتا، کہ تم یہاں کھڑے ہو، میں اس طرح وضو نہ کرتا، میں نے اپنے خلیل ﷺ کو فرماتے سنا: ’’مومن کا زیور ِ نور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک اس کے وضو کا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:586]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
حضرت ابوہریرہ ؓکے قول سے معلوم ہوا، کہ شرعی کام کرتے وقت امام یا مقتدی کا اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے، کہ یہ لوگ میرے فعل سے غلط مفہوم یا غلط نتیجہ نہ نکال لیں، کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کو خطرہ پیدا ہوگیا تھا، کہ یہ کہیں بغلوں تک دھونے کو فرض ہی نہ سمجھ لے۔
یہی حال رخصت پر عمل کرنے کا ہے، کہ لوگ پیشوا اور امام کو کسی رخصت پر عمل کرتے دیکھ کر اس کو مستقل اور دائمی فعل نہ سمجھ لیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓکے قول سے معلوم ہوا، کہ شرعی کام کرتے وقت امام یا مقتدی کا اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے، کہ یہ لوگ میرے فعل سے غلط مفہوم یا غلط نتیجہ نہ نکال لیں، کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کو خطرہ پیدا ہوگیا تھا، کہ یہ کہیں بغلوں تک دھونے کو فرض ہی نہ سمجھ لے۔
یہی حال رخصت پر عمل کرنے کا ہے، کہ لوگ پیشوا اور امام کو کسی رخصت پر عمل کرتے دیکھ کر اس کو مستقل اور دائمی فعل نہ سمجھ لیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 586 سے ماخوذ ہے۔