حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَى " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 الآيَةَ .

مروان بن یزید سے، جو کیسان کے بیٹے ہیں، حدیث سنائی، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی موت کے وقت ان سے کہا: ” «لا إله إلا الله» کہہ دیں، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہی دوں گا۔“ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ» ”بے شک آپ جسے چاہیں راہ راست پر نہیں لا سکتے ...“ آیت کے آخر تک۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ ، يَقُولُونَ : إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ سورة القصص آية 56 .

یحییٰ بن سعید نے کہا: ہمیں یزید بن کیسان نے حدیث سنائی.... (اس کے بعد مذکورہ سند کے ساتھ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا: ” «لا إله إلا الله» کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہ بن جاؤں گا۔“ انہوں نے (جواب میں) کہا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے (کہیں گے کہ اسے (موت کی) گھبراہٹ نے اس بات پر آمادہ کیا ہے) تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ» ”آپ جسے چاہتے ہوں اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 25
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي فى ((جامعه)) فى تفسير القرآن، باب: ومن سورة القصص وقال: هذا حديث حسن غريب برقم (3188) انظر ((التحفة)) برقم (13442) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 25 | سنن ترمذي: 3188

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 25 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا (ابو طالب) سے فرمایا: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ دو میں قیامت کے دن اس کی بنا پر تیرے حق میں گواہی دوں گا۔ اس نے جواب دیا: اگر مجھے قریش کے اس عار دلانے کا ڈر نہ ہوتا، کہ وہ کہیں گے کہ اسے اس بات پر (آخرت کی) گھبراہٹ نے آمادہ کیا ہے، تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تیری آنکھوں کو ٹھنڈا کرتا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اُتارا: ’’آپ جسے چاہیں راہِ راست پر نہیں لا سکتے،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:135]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
نبی اکرم ﷺ اور مشرکوں سے ابو طالب کا گفتگو کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی اس پر نزع کی حالت طاری نہیں ہوئی تھی اور جان حلق میں نہیں پہنچی تھی۔
ابو طالب کی وفات ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی ہے جبکہ نبی ﷺ کی عمر 49 سال آٹھ ماہ اور گیارہ دن تھی۔
(2)
انسان کے مسلمان ہونے کے لیے کلمہ شہادت کا علی الاعلان اقرار اور اعتراف ضروری ہے، محض دل کے اندر آپ کی نبوت کا اقرار کافی نہیں ہے۔
(3)
ابو طالب کی وفات شرک پر ہوئی ہے، یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ابو طالب، ایمان پر فوت ہوا ہے کیونکہ یہ قرآن مجید اور صحیح احادیث کے خلاف ہے، بریلوی علامہ غلام رسول سعید صاحب لکھتے ہیں: قرآن مجید کے اول الذکر آیات اور ثانی الذکر احادیث صحیحہ کی روشنی میں مذاہب اربعہ کے معروف علماء وفقہاء، مفسرین اور جمہور اہل سنت کا یہ موقف ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں ہے۔
(شرح صحیح مسلم اردو: 1/398) (4)
ہدایت کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے: (الف)
راہ دکھانا، رہنمائی کرنا، یہ رسول کا فریضہ ہے۔
(ب)
راہ راست پر چلانا، ہدایت دینا، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، رسول کے بس میں نہیں ہے۔
(5)
ابو طالب کی وفات مکہ مکرمہ میں ہوئی ہے اور آپ (ﷺ) نے صلح حدیبیہ کے سفرمیں اپنی والدہ کی قبر پر استغفار کی اجازت طلب کی ہے لیکن آپ کو اجازت نہیں ملی اور اس آیت کا نزول ہوا اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت پہلے سے نازل ہوچکی تھی اس لیے آپ نے اجازت طلب کرنے کی ضرورت محسوس کی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آیت کا نزول ابو طالب کی وفات کے کافی عرصہ بعد ہوا ہو کیونکہ یہ آیت سورۃ توبہ کی ہے جس کا نزول ہجرت کے بعد ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 25 سے ماخوذ ہے۔