صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي ، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ " .یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، عروہ بن زبیر نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (ایسا کرتے ہوئے) اچھے نہیں لگتے کہ وہ آئے میرے حجرے کے ساتھ بیٹھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے لگے وہ مجھے (یہ) احادیث سنا رہے تھے۔ میں نفل پڑھ رہی تھی تو وہ میرے نوافل ختم کرنے سے پہلے اٹھ گئے۔ اگر میں (نوافل ختم کرنے کے بعد) انہیں موجود پاتی تو میں ان کو جواب میں یہ کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح تسلسل سے ایک کے بعد دوسری بات ارشاد نہیں فرماتے تھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا: حضرت سعید بن مسیب نے روایت کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں اور پیشی اللہ کے سامنے ہونی ہے، نیز وہ کہتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے؟ میں تم کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میرے انصاری بھائیوں کو ان کی زمینوں کا کام مشغول رکھتا تھا اور میرے مہاجر بھائیوں کو بازار کی خرید و فروخت مصروف رکھتی تھی اور میں پیٹ بھرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگا رہتا تھا، جب دوسرے لوگ غائب ہوتے تو میں حاضر رہتا تھا اور جن باتوں کو وہ بھول جاتے تھے میں ان کو یاد رکھتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اپنا کپڑا بچھائے گا تاکہ میری یہ بات (حدیث) سنے پھر اس (کپڑے) کو اپنے سینے سے لگا لے تو اس نے جو کچھ سنا ہو گا اس میں سے کوئی چیز نہیں بھولے گا۔“ میں نے ایک چادر جو میرے کندھوں پر تھی پھیلا دی یہاں تک کہ آپ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے اس چادر کو اپنے سینے کے ساتھ اکٹھا کر لیا تو اس دن کے بعد کبھی کوئی ایسی چیز نہیں بھولا جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی۔ اگر دو آیتیں نہ ہوتیں، جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہیں تو میں کبھی کوئی چیز بیان نہ کرتا (وہ آیتیں یہ ہیں) ”وہ لوگ جو ہماری اتاری ہوئی کھلی باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں۔۔۔“ دونوں آیتوں کے آخر تک۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، وَيَقُولُ " اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ ، اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ ، وَعَائِشَةُ تُصَلِّي ، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا ، قَالَتْ لِعُرْوَةَ : أَلَا تَسْمَعُ إِلَى هَذَا ؟ ، وَمَقَالَتِهِ آنِفًا ، إِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ " .ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث بیان کر رہے تھے اور آواز لگا رہے تھے: اے حجرے کے مالک! سنیے، اے حجرے کے مالک! سنیے، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (اندر) نماز پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے جب نماز مکمل کی تو عروہ سے کہا: تم نے ابھی اسے اور اس کی کہی ہوئی بات نہیں سنی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک وقت میں) ایک بات (حدیث) ارشاد فرماتے تھے، اگر کوئی گننے والا اسے گنتا تو گن سکتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
لم يكن يسرد الحديث: آپ مسلسل، بلا وقفہ، گفتگو نہیں فرماتے تھے، یعنی آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے تھے، تاکہ سامع کو سننے اور سمجھنے میں سہولت رہے، جلدی جلدی بات کرنے کی صورت میں سننا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
گویا اسی طرح آہستہ آہستہ کلام کرنا اور قرآن وحدیث سنانا چاہیے۔
لیکن مجمع عام اور خطبہ میں یہ قید نہیں لگائی جاسکتی کیوں کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحید کا بیان کرتے یا عذاب الٰہی سے ڈراتے تو آپ کی آواز بہت بڑھ جاتی اور غصہ زیادہ ہوجاتا وغیرہ۔
یہاں یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت حدیث پر اعتراض کیا، یہ بالکل باطل ہے، اور ''توجیہ القول بما لا یرضی بہ القائل'' میں داخل ہے یعنی کسی کے قول کی ایسی تعبیر کرنا جو خود کہنے والے کے ذہن میں بھی نہ ہو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جس شخصیت کو ہدف تنقید بنایا وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے،چنانچہ اسماعیلی کی روایت میں صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: تجھے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انداز گفتگو پر تعجب نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 707/6)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث کے متعلق زور بیانی پر اعتراض کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاحافظہ بہت قوی تھا،اس لیے احادیث جلدی جلدی بیان کردیتے تھے اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت آہستہ آہستہ ہوا کرتی تھی کہ سننے والاآپ کے الفاظ گن لیتاتھا لیکن مجمع عام اور خطبہ دیتے وقت یہ قید نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب فرماتے تو آپ کی آواز بلند ہوجاتی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حدیث پر اعتراض نہیں کیا تھا۔
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے (اور چلے گئے) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی باتیں نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3655]
فائدہ: تیزتیز بولناعام طور پر بھی کسی طرح ممدوح نہیں ہے۔
بالخصوص داعی خطیب اور مدرس کی گفتگو میں ٹھرائو کا ہونا بہت ہی عمدہ صفت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ہر لفظ الگ الگ اور واضح ہوتا تھا، جو بھی اسے سنتا سمجھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4839]
جلدی اور تیزی تیزی سے گفتگو کرنا باوقار لوگوں کے ہاں ہمیشہ معیوب سمجھا گیا ہے۔
اور از حد تیز بولنے والا خطیب بھی کامیاب خطیب نہی سمجھا جاتا۔