صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : " كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَاتَّبَعْتُهُ ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ فَتَحَدَّثْنَا ، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ ، قُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ ، قَالَ رَجُلٌ : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ ، رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ سَعَتَهَا ، وَعُشْبَهَا ، وَخُضْرَتَهَا ، وَوَسْطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ ، وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ ، فَقِيلَ لِي : ارْقَهْ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَا أَسْتَطِيعُ ، فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ ، فَقَالَ : بِثِيَابِي مِنْ خَلْفِي وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ ، فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ ، فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَقِيلَ لِيَ : اسْتَمْسِكْ فَلَقَدِ اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تِلْكَ الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى ، وَأَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ ، قَالَ : وَالرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ " .معاذ بن معاذ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی، کہا: میں مدینہ منورہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع کا اثر (نظر آتا) تھا، لوگوں میں سے ایک نے کہا: یہ اہل جنت میں سے ایک آدمی ہے۔ اس آدمی نے دو رکعت نماز پڑھی جن میں اختصار کیا پھر چلا گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گیا، میں بھی (اجازت) لے کر اندر گیا، پھر ہم نے آپس میں باتیں کیں۔ جب وہ کچھ میرے ساتھ مانوس ہو گئے تو میں نے ان سے کہا: جب آپ (کچھ دیر) پہلے مسجد میں آئے تھے تو آپ کے متعلق ایک شخص نے اس طرح کہا تھا۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کوئی بات کہے جس کا اسے پوری طرح علم نہیں اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کیونکر ہوا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا اور وہ خواب آپ کے سامنے بیان کیا۔ میں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں دیکھا۔ انہوں نے اس باغ کی وسعت، اس کے پودوں اور اس کی شادابی کے بارے میں بتایا۔ باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون تھا، اس کا نیچے کا حصہ زمین کے اندر تھا اور اس کے اوپر کا حصہ آسمان میں تھا، اس کے اوپر کی جانب ایک حلقہ تھا، مجھ سے کہا گیا: اس پر چڑھو۔ میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا، پھر ایک منصف آیا۔ ابن عون نے کہا: منصف (سے مراد) خادم ہے۔ اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے تھام لیے اور انہوں (عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) نے واضح کیا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے انہیں پیچھے سے اوپر اٹھایا تو میں اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ میں ستون کی چوٹی پر پہنچ گیا اور حلقے کو پکڑ لیا تو مجھ سے کہا گیا: اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور وہ میرے ہاتھ ہی میں تھا کہ میں جاگ گیا۔ میں نے یہ (خواب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ باغ اسلام ہے۔ اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ (ایمان کا) مضبوط حلقہ ہے اور تم موت تک اسلام پر رہو گے۔“ (قیس بن عباد نے) کہا: اور وہ شخص عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ : " كُنْتُ فِي حَلَقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، وَابْنُ عُمَرَ ، فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ، فَقَالُوا : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُمْ قَالُوا كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ ، إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ ، فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ ، وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ ، وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ ، فَقِيلَ لِيَ : ارْقَهْ ، فَرَقِيتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى " .قیس بن عباد رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجودتھے اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے تو لو گوں نے کہا: یہ اہل جنت میں سے ایک شخص ہے میں اٹھا اور ان سے کہا: آپ کے متعلق لو گ اس اس طرح کہہ رہے تھے،انھوں نے کہا: سبحان اللہ!انھیں زیبا نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انھیں (پوری طرح) علم نہ ہو۔میں نے (خواب میں) دیکھا کہ ایک ستون جو ایک سر سبز باغ کے اندر لا کر اس میں نصب کیا گیا تھا۔اس کی چوٹی پر ایک حلقہ تھا اور اس کے نیچے ایک منصف تھا۔اور منصف خدمت گا ر ہو تا ہے۔مجھ سے کہا: گیا:اس پر چڑھ جاؤ میں اس پر چڑھ گیا یہاں تک کہ حلقے کو پکڑ لیا،پھر میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:' عبداللہ کی مو ت آئے گی تو اس نے عروہ ثقیٰ(ایمان کا مضبوط حلقہ) تھا م رکھا ہو گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ : " كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلَقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَفِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ : فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ ، قَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ : أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ ، قَالَ : فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ ، فَأَذِنَ لِي ، فَقَالَ : مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ لَمَّا قُمْتَ مَنْ سَرَّهُ ، أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ ، قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّ ، قَالُوا ذَاكَ : إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ ، فَقَالَ لِي : قُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، قَالَ : فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ ، عَنْ شِمَالِي ، قَالَ : فَأَخَذْتُ لِآخُذَ فِيهَا ، فَقَالَ لِي : لَا تَأْخُذْ فِيهَا ، فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ ، قَالَ : فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَى يَمِينِي ، فَقَالَ لِي : خُذْ هَاهُنَا فَأَتَى بِي جَبَلًا ، فَقَالَ لِيَ : اصْعَدْ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي ، قَالَ : حَتَّى فَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ ، وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ فِي أَعْلَاهُ حَلْقَةٌ ، فَقَالَ لِيَ : اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَزَجَلَ بِي ، قَالَ : فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ ، قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ ، قَالَ : وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِكَ ، فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ ، قَالَ : وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ ، فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ، وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ ، وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ " .خرشہ بن حر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ کی مسجد کے اندر ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، کہا: اس میں خوبصورت ہیت والے ایک حسین و جمیل بزرگ بھی موجود تھے۔ وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے، کہا: انہوں نے ان لوگوں کو خوبصورت احادیث سنانی شروع کر دیں، کہا: جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا معلوم ہو، وہ اس کو دیکھے۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور ان کا گھر دیکھوں گا۔ پھر میں ان کے پیچھے ہوا، وہ چلے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ شہر سے باہر نکل جائیں، پھر وہ اپنے مکان میں گئے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت چاہی۔ انہوں نے اجازت دی، پھر پوچھا کہ اے میرے بھتیجے! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ جب آپ کھڑے ہوئے تو میں نے لوگوں کو سنا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا لگے، وہ ان کو دیکھے تو مجھے آپ کے ساتھ رہنا اچھا معلوم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جنت والوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور میں تجھ سے لوگوں کے یہ کہنے کی وجہ بیان کرتا ہوں۔ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ خواب میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کھڑا ہو۔ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا، میں اس کے ساتھ چلا، مجھے بائیں طرف کچھ راہیں ملیں تو میں نے ان میں جانا چاہا تو وہ بولا کہ ان میں مت جا، یہ بائیں طرف والوں (یعنی کافروں) کی راہیں ہیں۔ پھر دائیں طرف کی راہیں ملیں تو وہ شخص بولا کہ ان راہوں میں جا۔ پس وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے آیا اور بولا کہ اس پر چڑھ۔ میں نے اوپر چڑھنا چاہا تو پیٹھ کے بل گرا۔ کئی بار میں نے چڑھنے کا قصد کیا لیکن ہر بار گرا۔ پھر وہ مجھے لے چلا، یہاں تک کہ ایک ستون ملا جس کی چوٹی آسمان میں تھی اور تہہ زمین میں، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا۔ مجھ سے اس شخص نے کہا کہ اس ستون کے اوپر چڑھ جا۔ میں نے کہا کہ میں اس پر کیسے چڑھوں کہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے۔ آخر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا اور میں نے دیکھا کہ میں اس حلقہ کو پکڑے ہوئے لٹک رہا ہوں۔ پھر اس شخص نے ستون کو مارا تو وہ گر پڑا اور میں صبح تک اسی حلقہ میں لٹکتا رہا (اس وجہ سے کہ اترنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا)۔ کہتے ہیں پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو راہیں تو نے بائیں طرف دیکھیں، وہ بائیں طرف والوں کی راہیں ہیں اور جو راہیں دائیں طرف دیکھیں، وہ دائیں طرف والوں کی راہیں ہیں۔ اور وہ پہاڑ شہیدوں کا مقام ہے، تو وہاں تک نہ پہنچ سکے گا اور ستون، اسلام کا ستون ہے اور حلقہ، اسلام کا حلقہ ہے اور تو مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے گا۔“ (اور جب اسلام پر خاتمہ ہو تو جنت کا یقین ہے، اس وجہ سے لوگ مجھے جنتی کہتے ہیں)
تشریح، فوائد و مسائل
ما ينبغي لاحد ان يقول مالايعلم: کسی کو کوئی بات بلا سند و دلیل نہیں کرنی چاہیے، انہوں نے تجھے یہ تو بتا دیا کہ یہ جنتی ہے، لیکن اس کی دلیل اور سند بیان نہیں کی، اس لیے میں تمہیں اس کا سبب اور پس منظر بتاتا ہوں، تاکہ تم بات دلیل سے کر سکو۔
اہل تعبیر کہتے ہیں کہ حلقہ اور عروہ سے مراد پکڑنے والے کی دینی قوت اور اس کا اخلاق ہے۔
حدیث میں عروہ ثقی سے درج ذیل آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے۔
’’جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایسے مضبوط حلقے کو تھام لیا جو کسی صورت میں ٹوٹ نہیں سکتا۔
‘‘ (البقرة: 256/2)
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بیدار ہوئے تو عروہ ثقی ان کے ہاتھ میں تھا۔
شارحین نے دو طرح سے اس کا مفہوم بیان کیا ہے۔
میں اسے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی یعنی خواب میں اسے پکڑے ہوئے تھا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بیداری کے وقت اللہ تعالیٰ کی قدرت سے حلقے اور کڑے کو پکڑے ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا مشکل نہیں۔
(عمدة القاري: 295/16)
1۔
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جب خواب سے بیدار ہوئے تھے تو عروہ وثقیٰ کو تھامے ہوئے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کنڈا پکڑنے کے بعد اور اسے چھوڑنے سے پہلے بیدار ہوگئے، یعنی کنڈا پکڑنے اور بیدارہونے میں کوئی فاصلہ واقع نہیں ہواتھا یا بیدا رہونے کےبعد مٹھی بھرے ہوئے تھے جیسا کہ کوئی چیز پکڑے ہوئے ہیں۔
2۔
اس عروہ وثقیٰ سے مراد ایمان ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اب جو شخص طاغوت سے کفر کرے اوراللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایسے مضبوط حلقے کو تھام لیا جو ٹوٹ نہیں سکتا۔
‘‘ (البقرة: 256/2)
3۔
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کی فضیلت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’تم مرتے دم تک اسلام پر قائم رہو گے۔
‘‘ واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 166/7)
(1)
جواد: جادة کی جمع ہے، دال پر شد ہے، شاہراہ عام، وہ کھلا راہ جس پر لوگ چلتے ہوں۔
(2)
جواد، منهج: شاہراہ عام جو مستقیم اور سیدھی ہو۔
کیونکہ نهج سیدھے راستہ کو کہتے ہیں، کھلا، واضح اور سیدھا راستہ۔
(3)
زجل بي: مجھے پھینک دیا، یعنی اوپر چڑھا دیا۔
خرشہ بن حرر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو مسجد نبوی میں چند بوڑھوں کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک بوڑھا اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آیا، تو لوگوں نے کہا: جسے کوئی جنتی آدمی دیکھنا پسند ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے، پھر اس نے ایک ستون کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز ادا کی، تو میں ان کے پاس گیا، اور ان سے عرض کیا کہ آپ کی نسبت کچھ لوگوں کا ایسا ایسا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا: الحمدللہ! جنت اللہ کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل فرمائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا تھا، میں نے دیکھا، گویا ایک شخص میرے پاس آیا،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3920]
فوائد ومسائل: (1)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودی مذہب پر تھےاور ان کے بہت بڑے عالم تھے۔
(2)
دین پر مرتے وقت دم تک قائم رہنا نجات کا باعث ہے۔
(3)
شہادت کے منصب کو پھسلواں پہاڑ سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جس طرح پھسلن والے پہاڑ پر چڑھنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح جہاد کرکے شہادت حاصل کرنا، مشکل ہے لیکن وہ پہاڑ کی طرح بلند اور عظیم مقام ہے۔