حدیث نمبر: 2483
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لِحَيٍّ يَمْشِي إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ " .

عامر بن سعد نے کہا: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا، بلاشبہ وہ جنت میں جائے گا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2483
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3812

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عامر بن سعد رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں،میں نے اپنے باپ کو یہ بیان کرتے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے بارے میں،عبداللہ بن سلام کے سوا یہ نہیں سناکہ وہ جنتی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6380]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو خود عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، نے یہ بات حضرت عبداللہ بن سلام کی زندگی میں اس وقت کہی، جب باقی حضرات جو حضرت سعد کے علم میں تھے، فوت ہو چکے تھے، یا جس اسلوب اور انداز میں یہ بات عبداللہ بن سلام کے بارے میں فرمائی تھی، وہ انداز کسی اور کے لیے اختیار نہیں کیا تھا، عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور سعید رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2483 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3812 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3812. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو کسی ایسے شخص کی بابت جو زمین میں چلتا پھرتا ہو، یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام کے۔ اور یہ آیت انہی کے حق میں نازل ہوئی: ’’اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس طرح کی گواہی بھی دی ہے۔۔‘‘ راوی حدیث نے کہا: میں نہیں جانتا آیت کا حوالہ مالک کا قول ہے یا حدیث میں اس طرح تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3812]
حدیث حاشیہ: حضرت عبداللہ بن سلام مشہورعالم دین تھے جو رسول کریم ﷺ کی مدینہ میں تشریف آوری پرآپ ﷺ کی علامات نبوت دیکھ کر مسلمان ہو گئے تھے، آنحضرت ﷺ نے ان کے لیے جنت کی بشارت پیش فرمائی اور آیت قرآن ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ (الأحقاف: 10)
میں اللہ نے ان کا ذکر خیر فرمایا دوسری حدیث میں بھی ان کی منقبت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3812 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3812 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3812. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو کسی ایسے شخص کی بابت جو زمین میں چلتا پھرتا ہو، یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام کے۔ اور یہ آیت انہی کے حق میں نازل ہوئی: ’’اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس طرح کی گواہی بھی دی ہے۔۔‘‘ راوی حدیث نے کہا: میں نہیں جانتا آیت کا حوالہ مالک کا قول ہے یا حدیث میں اس طرح تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3812]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ ﷺ نے جن خوش قسمت حضرات کو ایک مجلس میں جنت کی بشارت دی وہ عشرہ مبشرہ ہیں۔
ان میں راوی حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بھی شامل ہیں۔
لیکن حضرت سعد ؓ نے یہ حدیث اس وقت بیان فرمائی۔
جب عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بھی زندہ نہ تھا اور اپنا نام اس لیے ذکر نہیں کیا کہ اپنے منہ اپنی تعریف کرنا موزوں اور مناسب نہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابھی ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔
‘‘اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ آگئے۔
(فتح الباري: 164/7 و صحیح ابن حبان (ابن بلبان)
حدیث: 7164)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3812 سے ماخوذ ہے۔