صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، قَالَ : فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي ، فَلَمَّا جِئْتُ ، قَالَتْ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ، قَالَتْ : مَا حَاجَتُهُ ؟ قُلْتُ : إِنَّهَا سِرٌّ ، قَالَتْ : لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا ، قَالَ أَنَسٌ : وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ " .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہا: آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والد ہ کے پاس تا خیر سے پہنچا،جب میں آیا تو والدہ نے پو چھا: تمھیں دیر کیوں ہوئی۔؟میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا م سے بھیجا تھا۔ انھوں نے پو چھا: آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ میری والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشانہ کرنا۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے وہ کسی کو بتانا ہوتاتو اے ثابت!تمہیں بتادیتا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا ، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ " .معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ (کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتایا، میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی میں نے کہا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی ایک بات ہے پھر حضرت والدہ نے بھی یہی فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی بات کسی کے سامنے ظاہر نہ کیجيو مگر اس میں وہی راز مراد ہے جس کے ظاہر ہونے سے ایک مسلمان بھائی کو نقصان کا خوف ہو۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا تھا جس کی وجہ سے میں اپنی والدہ کے پاس دیر سے پہنچا۔
والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی ایک بات تھی۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ والدہ نے بھی تاکید کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی کے سامنے ظاہر مت کرنا۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6378(2482)
، وفتح الباري: 98/11) (2)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ راز ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھا کیونکہ اگر دینی یا علمی بات ہوتی تو اس کا چھپانا تو جائز ہی نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس سے وہ راز مراد ہے جس کے ظاہر ہونے سے مسلمان بھائی کو نقصان کا اندیشہ ہو۔
(فتح الباري: 99/11)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5203]
1: بچوں کو سلام کہنا چاہیے اس میں بڑے آدم کے لئے کوئی ہتک والی بات نہیں، بلکہ بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کے ساتھ انس وپیار کا اظہار ہے۔
2: ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قراردیا ہے، جبکہ شیخ البانی ؒ نے اس روایت کی بابت کہا ہے کہ اس روایت میں مذکور (و قعد في ظل جدار۔
۔
۔
۔
۔
) کے الفاظ صحیح نہیں ہیں، باقی روایت صحیح ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، (اس وقت) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3700]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض حصے کے شواہد بخاری و مسلم میں موجود ہیں دیگر محققین نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم- مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 19/ 244، 245 وصحيح سنن ابن ماجة للألبانى رقم: 3000 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3700)
(2)
اصل قاعدہ یہ ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کہے اور تھوڑے زیادہ کو سلام کہیں۔ (صحيح البخاري، الأسئذان، باب: يسلم الصغير على الكبير حديث: 6234)
(3)
بچوں کی تربیت کے لیے بڑا چھوٹے کو سلام کہہ سکتا ہے۔
(4)
اس سے بچوں پر شفقت کا اظہار ہوتا ہے اور دل سے تکبر ختم ہوتا ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں: میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول! یہ انیس ۱؎ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ۲؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ۳؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3827]
وضاحت:
1؎:
انیس یہ انس کی تصغیر ہے۔
2؎:
ان دونوں دعاؤں کا تعلق مال و اولاد کی کثرت سے تھا، انس رضی اللہ عنہ کا خود بیان ہے کہ میری زمین سال میں دو مرتبہ پیداوار دیتی تھی، اور میری اولاد میں میرے پوتے اور نواسے اس کثرت سے ہوئے کہ ان کی تعداد سو کے قریب ہے۔
(دیکھئے اگلی حدیث رقم: 3846)
3؎: اس دعا کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے تھا جو انہیں آخرت میں نصیب ہوگی۔
إن شاء اللہ۔