مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 248
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ ، كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ ، عَنْ حَوْضِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا ، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ ، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ " .

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو ہٹاؤں گا، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 248
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4302

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4302 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حوض کوثر کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے ہی دھتکاروں اور بھگاؤں گا جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے دھتکارتا اور بھگاتا ہے ، سوال کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4302]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
  نبی کا حوض صرف آپ کی امت کے لیے ھو گا۔

(2)
نبی امت کے افراد کو اس لیے پہچان لیں گے۔
کہ ان کے ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔
اس میں اشارہ ہے کہ نبی حاظر و ناضر یا عالم الغیب نہیں ہے۔

(3)
بے نماز لوگ حوض سے پانی نہیں پی سکیں گے کیونکہ ان کو امت محمدیہ کی علامت حاصل نہیں ھو گی۔

(4)
حوض کوثر میں پانی جنت سے آئیگا، اس لیے اس میں جنت کی نعمتوں والی خوبیاں ھوں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4302 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔