صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لعبد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِئْرِ ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ ، فَقَالَ لِي : لَمْ تُرَعْ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا " .زہری نے سالم سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو شخص کوئی خواب دیکھتا تو وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتا، میری بھی آرزو تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کروں۔ میں ایک غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور جہنم کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ کے کنارے پر کنویں کی منڈیر کی طرح تہ در تہ منڈیر بنی ہوئی ہے اور اس کے دو ستون ہیں جس طرح کنویں کے ستون ہوتے ہیں اور اس کے اندر لوگ ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں تو میں نے کہنا شروع کر دیا: میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کہا: تو ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ آ کر ملا، اس نے مجھ سے کہا: تم مت ڈرو۔ میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، حضرت حفصہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ خوب آدمی ہے! اگر یہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھا کرے۔“ سالم نے کہا: اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سوتے تھے (زیادہ وقت نماز پڑھتے تھے)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي أَهْلٌ ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَى بِئْرٍ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ .عبید اللہ بن عمر نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں رات کو مسجد میں سوتا تھا (اس وقت) میرے اہل و عیال نہ تھے میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے مجھے ایک کنویں کی طرف لے جایا گیا ہے پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی بیان کیا جو زہری نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
دراصل حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی مذکورہ حدیث ان کے دو خوابوں پر مشتمل ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک موٹے ریشم کا ٹکڑا ہے۔
میں جنت کے جس مقام کا ارادہ کرتا ہوں وہ مجھے وہاں لے جاتا ہے۔
پھر میں نے ایک دوسرے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس دو فرشتے آئے اور مجھے آگ کی طرف لے گئے انھیں ایک تیسرا فرشتہ ملا تو اس نے کہا: عبد اللہ! گھبرانے کی ضرورت نہیں پھر ان سے مخاطب ہوا کہ اسے چھوڑ دو۔
میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کیا۔
انھوں نے اس کا ایک حصہ (جو آگ والا تھا)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ’’عبد اللہ اچھا آدمی ہے اگر قیام اللیل کا اہتمام کیا کرے۔
‘‘ (صحیح البخاري، التهجد، حدیث: 1156۔
1157)
اس کے بعد حضرت عبد اللہ رات کو بہت کم سوتے تھے۔
(صحیح البخاري التهجد، حدیث: 1122)
2۔
حافظ ابن حجر نے ایک روایت کی نشاندہی کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت سوتے تھے اور جس فرشتے نے خواب میں آپ کو تسلی دی تھی اس نے کہا کہ نماز سے سستی نہ کیا کرو۔
آپ اچھے آدمی ہیں صرف نماز تہجد کے اہتمام کی کمی ہے۔
(فتح الباری: 12/505)
بہر حال حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ ارشاد گرامی اس خواب کا حصہ ہے جس میں انھیں آگ سے ڈرایا گیا تھا اور ایک فرشتے نے انھیں تسلی دی تھی کہ گھبرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔
آپ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔
آپ نماز تہجد پڑھنے کا اہتمام کیا کریں۔
واللہ أعلم۔
صفہ مسجد نبوی کے سامنے ایک سایہ دار جگہ تھی۔
جوآج بھی مدینہ منورہ جانے والے دیکھتے ہیں، یہاں آپ ﷺ سے تعلیم حاصل کرنے والے رہتے تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے متعلق ایک روایت میں ہے کہ نکاح سے پہلے ان کا گھر مسجد ہی تھا اور آپ وہیں سوتے تھے۔
(صحیح البخاري، التعبیر،حدیث: 7028)
حضرت ابن عمر ؓ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ کوشش کی کہ رہنے کے لیے جھونپڑی بنا لوں، مگر افسوس کہ مخلوق میں سے کسی نے میری مدد نہ کی۔
(سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4162)
اس لیے وہ مسافر سے بھی زیادہ مسجد میں اقامت گزیں ہونے کے حقدار تھے۔
واضح رہے کہ ان جزوی واقعات سے مسجد میں سونے کی اجازت کو ثابت کیا جا رہا ہے۔
ان سے مراد میں سونے کی ترغیب نہیں، کیونکہ یہ اجازت صرف ضرورت کے پیش نظر ہے۔
واللہ أعلم۔
اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے نماز تہجد کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد کی بے حد فضیلت ہے۔
اس بارے میں کئی احادیث مروی ہیں۔
ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: علَیکُم بقیامِ اللیل فإِنهُ دأبُ الصالحینَ قبلکُم۔
یعنی اپنے لیے نمازتہجد کو لازم کر لو یہ تمام صالحین، نیکو کار بندوں کا طریقہ ہے۔
حدیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ رات میں تہجد پڑھنا دوزخ سے نجات پانے کا باعث ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کو ان کی والدہ نے نصیحت فرمائی تھی رات بہت سونا اچھا نہیں جس سے آدمی قیامت کے دن محتاج ہو کر رہ جائے گا۔
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ مسجد میں اس وقت رہائش پذیر تھے جب ان کا اپنا مکان وغیرہ نہیں تھا۔
وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے بارش اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے اپنا مکان بنایا، لیکن اس کی تعمیر میں کسی نے بھی میرے ساتھ کوئی تعاون نہ کیا۔
(سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4182)
اس خواب کے ذریعے سے انہیں خبردار کیا گیا کہ جس مسجد میں تم رہائش رکھتے ہو کم از کم نماز تہجد پڑھ کر اس کا حق تو ادا کرو۔
(فتح الباري: 11/3) (2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے نماز تہجد کی فضیلت ثابت کی ہے، کیونکہ اس کی پابندی کرنا دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہے۔
شاید امام بخاری کے ہاں ایسی کوئی حدیث صحیح نہیں تھی جس میں صراحت کے ساتھ نماز تہجد کی فضیلت ثابت ہو۔
صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فرض نماز کے بعد نماز تہجد بہت فضیلت والی ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2755(1163) (3)
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تنبیہ کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے نماز تہجد کا اس قدر اہتمام کیا کہ رات کو بہت کم سوتے تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3739)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب (ام المؤمنین) حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ” تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے “ یا فرمایا: ” عبداللہ مرد صالح ہیں “ ۱؎۔ امام ترمذی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3825]
وضاحت:
1؎:
کسی کے صالح ہونے کی شہادت اللہ کے رسول ﷺدیں، اس کے شرف کا کیا پوچھنا!۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جب وہ نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے تو مسجد نبوی میں سوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 723]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکا تھا، اور رات میں مسجد میں سویا کرتا تھا، اور ہم میں سے جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ اس کی تعبیر آپ سے پوچھا کرتا، میں نے (ایک دن دل میں) کہا: اے اللہ! اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہے تو مجھے بھی ایک خواب دکھا جس کی تعبیر میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیں، پھر میں سویا تو میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے، اور مجھے لے کر چلے، (راستے میں) ان دونوں کو ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے کہا: تم خوفزدہ نہ ہو، بالآخر وہ دونوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3919]
فوائد و مسائل:
(1)
ایک نوجوان کنوارا آدمی ضرورت پڑنے پر دن یا رات کو مسجد میں سوسکتا ہے۔
(2)
نیک آدمی کی اس انداز سے تعریف کرنا جائز ہے جس سے اس میں فخر کے جذبات پیدا ہونے کا خدشہ نہ ہو۔
(3)
نیکی کی ترغیب دلانے کے لیے موجود نیکی کا ذکر کرکے کوتاہی بیان کرنا درست ہے تاکہ اصلاح کی ہمت پیدا ہو۔
(4)
اس میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے کا اشارہ ہے۔